ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 364 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 364

المسيح 364 مطلب ہر دل جمال روئے اوست گمر ہے گرہست بہر کوئے اوست اُسی کے منہ کا جمال ہر ایک دل کا مقصود ہے اور کوئی گمراہ بھی ہے تو وہ بھی اُسی کے کوچہ کی تلاش میں ہے اور فرماتے ہیں: جاں فدائے آنکه او جاں آفرید دل شار آنکه زو شد دل پدید جان اُس پر قربان ہے جس نے اس جان کو پیدا کیا دل اُس پر نثار ہے جس نے دل کو بنایا جال از و پیداست زین می جویدش رَبُّنَا الله رَبُّنَا الله گویدش جان چونکہ اس کی مخلوق ہے اس لیے اسے ڈھونڈتی ہے اور کہتی ہے کہ تو ہی میرا رب ہے تو ہی میرا رب ہے گر وجودِ جاں نبودے زو عیاں کے شدے مہر جمالش نقشِ جاں اگر جان کا وجود اس کی طرف سے ظاہر نہ ہوتا۔تو اس کے حسن کی محبت جان پر کس طرح نقش ہوتی جسم و جاں را کرد پیدا آں لگاں زین دود دل سوئے او چوں عاشقاں جسم اور جان کو اسی یکتا نے پیدا کیا ہے اسی لیے عاشقوں کی طرح دل اس کی طرف دوڑتا ہے۔یہ بات تو ہوگئی کہ محبت الہی انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے۔اب یہ بات ہے کہ انسان کامل صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کا عشق الہی میں اس فطرتی جوش کا مشاہدہ کریں۔فرماتے ہیں: محبت تو دوائے ہزار بیماری است بروئے تو کہ رہائی دریں گرفتاری است تیری محبت ہزار بیماریوں کی دوا ہے تیرے منہ کی قسم کہ اس گرفتاری ہی میں اصل آزادی ہے۔پناہ روئے تو جستن نه طور مستاں است که آمدن به پناهت کمال ہشیاری است تیری پناہ ڈھونڈھناد یوانوں کا طریقہ نہیں ہے بلکہ تیری پناہ میں آنا ہی تو کمال درجہ کی عظمندی ہے متاع مہر رخ تو نہاں نخواهم داشت که خفیه داشتن عشق تو ز غداری است میں تیری محبت کی دولت کو ہرگز نہیں چھپاؤں گا۔کہ تیرے عشق کا مخفی رکھنا بھی ایک غداری ہے برآں سرم کہ سروجاں فدائے تو بکنم کہ جان بیار سپر دن حقیقت یاری است میں تیار ہوں کہ جان و دل تجھ پر قربان کردوں کیونکہ جان کو محبوب کے سپر دکر دینا ہی اصل دوستی ہے