ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 19 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 19

19 ادب المسيح ترجمہ: ان سے کہو کہ خواہ تم خدا کو اللہ کے نام سے پکارو یا رحمن کے نام سے۔حقیقت یہی ہے کہ تمام حسین نام اُسی کے ہیں۔اس حقیقت کو حضرت اقدس نے کس قدر خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔فرماتے ہیں: کس قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا چشمه خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں ہر ستارے میں تماشا ہے تری چمکار کا تو بردیوں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی ہر گل گلشن میں ہے رنگ اس ترے گلزار کا چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا چاند میں محبوب حقیقی کے حسن کا عکس دیکھنا۔مگر کامل عکس نہ ہونے کو کچھ کچھ کہہ کر بیان کرنے سے چاند کی بھی عزت قائم رکھی اور محبوب حقیقی کی عظمت کو بھی بیان کر دیا۔بہت ہی بلیغ بیان ہے۔حسن کا پر تو کبھی کامل نہیں ہوسکتا۔مگر پر تو ہونے کے اعتبار سے اس کی ایک شان ضرور ثابت ہے۔اور حسین آنکھ کا حسن کامل کی طرف اشارہ کرنا۔اور خمدار زلفوں کا محبوب حقیقی کی طرف ہاتھ بڑھانا ایک دلفریب ادبی صنعت گری ہے۔فارسی زبان میں فرماتے ہیں:۔اے دلبر و دلستان و دلدار واے جانِ جہان و نور انوار اے میرے دلبر محبوب اور دلدار اور اے جان جہاں اور نوروں کے نور لرزاں ز تجلیت دل و جان حیراں ز رخت قلوب و ابصار جان و دل تیرے جلال سے کانپ رہے ہیں۔قلوب اور نظریں تیرے رخ کو دیکھ کر حیران ہیں حسنِ تو غنی کند ز ہر حُسن مہر تو بخود کشد ز ہر یار تیرا حسن ہرحسن سے بے نیاز کر دیتا ہے اور تیری محبت ہر دوست کو چھڑا کر اپنی طرف کھینچ لاتی ہے حسن نمکینت ار نہ بودے از حُسن نہ بودے بیچ آثار نمکین حسن نہ ہوتا تو دنیا میں حسن کا نام و نشان نہ ہوتا اگر تیرا