ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 327 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 327

327 ادب المسيح خوبصورت بات یہ بھی ہے کہ قرآن کریم نے بھی اس دردناک پکار کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار کہا ہے کیونکہ آنحضرت کی قوم نے قرآن کریم کو مہجور کی طرح سے پس پشت ڈال دیا ہے۔جیسے فرمایا: وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: (31) ترجمہ: اے میرے رب میری قوم نے تو اس فرقان کو بیٹھ کے پیچھے پھینک دیا ہے۔گویا کہ اول یہ دردناک پکار حضرت اقدس کے آقا اور مطاع کی طرف سے خدا تک پہنچی ہے اور پھر آپ کے نائب اور وارث کی طرف سے اس غم کا اظہار ہوا ہے۔فرماتے ہیں: دردا که حسن صورت فرقاں عیاں نماند آں خود عیاں مگر اثر عارفاں نماند افسوس کہ قرآن کے چہرے کی خوبصورتی ظاہر نہ رہی مگر واقعہ یہ ہے کہ وہ خود تو ظاہر ہے لیکن اس کے قدر شناس نہ رہے مردم طلب کنند که اعجاز آں کجاست صد درد و صد دریغ کہ اعجاز داں نماند لوگ پوچھتے ہیں کہ اس کا اعجاز کہاں گیا ( اعجاز تو ہے ) لیکن سخت رنج اس کا ہے کہ کوئی اعجاز داں نہیں رہا یوسف شنیده ام که شدش کارواں معیں ایں یوسفے کہ بیچ کسش کارواں نماند میں نے یوسف کی بابت سنا تھا کہ قافلہ نے اُس کی مدد کی تھی اور یہ یوسف ہے جس کا کوئی کارواں نہیں ہے جانم کباب شد ز غم ایں کتاب پاک چنداں بسوختم که خود امید جاں نماند اس کتاب کے غم میں میری جان کباب ہوگئی اور میں اس قدر جل گیا ہوں کہ بچنے کی کوئی امید نہیں اے سید الورا کی مددے وقت نصرت است در بوستاں سرائے تو کس باغباں نماند اے مخلوقات کے سردار مددفرما یہ نصرت کا وقت ہے کیونکہ تیرے باغ میں کوئی بھی باغباں نہیں رہا صد بار رقص با کنم از خرمی اگر بینم کہ حسن دلکش فرقاں نہاں نماند میں خوشی کے مارے سینکڑوں دفعہ رقص کروں۔اگر یہ دیکھ لوں کہ قرآن کا دل کش جمال پوشیدہ نہیں رہا یارب چه بهر من غم فرقاں مقدر است یا خود در یں زمانہ کیسے رازداں نماند اے رب کیا میری تقدیر میں ہی فرقان کے لیے غم کھانا کھا ہے یا اس زمانہ میں میرے سوا اور کوئی واقف حقیقت ہی نہیں دیدم کہ زاہداں رہ فرقاں گذاشتند ناچار در دلم اثر میر شاں نماند میں نے دیکھا کہ زاہدوں نے قرآن کا راستہ چھوڑ دیا ہے اس لیے میرے دل میں بھی ان کی محبت کا نشان باقی نہیں رہا