ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 326 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 326

المسيح 326 آفتاب است و کند چون آفتاب گر نه کوری بیا بنگر شتاب وہ خود آفتاب ہے اور دوسروں کو بھی آفتاب کی طرح بنا دیتا ہے اگر تو اندھا نہیں ہے تو جلدی آاور دیکھ فرماتے ہیں کہ جو صحابہ میں روحانی انقلاب آیا اور انہوں نے دنیا کو یکسر بھلا دیاوہ تاثیرات قرآن ہی تھیں۔بود آں جذبہ کلام خُدا که دل شاں ربود از دنیا یہ کلام الہی کی کشش ہی تو تھی۔جس نے اُن کے دلوں کو دنیا کی طرف سے ہٹا دیا سینہ شاں ز غیر حق پرداخت و از مئے عشق آں لگاں پُر ساخت ان کے سینہ کو غیر اللہ سے خالی کردیا۔اور اُس یگانہ کی محبت کی شراب سے بھر دیا چوں شد آں نور پاک شامل شاں تافت از پرده بدر کامل شاں جب وہ پاک نور ان میں رچ گیا۔تو پردہ میں سے بدر کامل چپکا دور شد ہر حجاب ظلمانی شد وہ ظلمت کے حجابوں سے دور سراسر وجود نورانی ہو گیا اور سراسر نورانی وجود بن گیا کرد مائل نہ عشق ربانی خاطر شاں بجذب پنهانی اُن کے دل کو ایک مخفی کشش سے خدا کی طرف مائل کردیا حضرت اقدس کی قرآن سے محبت اور اس کے فیوض کا ایک بہت دلفریب بیان بھی سُن لیں فرماتے ہیں۔ماست الغرض فرقان مدار دین ماست أو انیس خاطر غمگین الغرض قرآن ہمارے دین کی بنیاد ہے۔وہ ہمارے غمگین دل کو تسلی دینے والا ہے۔ے تو اں دیدن ازو روئے خدا نور فرقاں میکشد سوئے خدا فرقان کا نور خدا کی طرف کھینچتا ہے۔اس کے ذریعہ خدا کا چہرہ دیکھا جاسکتا ہے ماچہ ساں بندیم زاں دلبر نظر ہمچو روئے اُو کُجا روئے دگر میں اس محبوب سے اپنی آنکھیں کیونکر بند کرسکتا ہوں۔اس کے خوبصورت چہرے کے مقابل کونسا چہرہ ہے روئے من از نور روئے او بتافت یافت از فیضش دل من هر چه یافت میرا چہرہ اس کے منہ کے نور سے چمک اٹھا۔میرے دل نے جو پایا اسی کے فیض سے پایا آخر پر آپ حضرت کی قرآنِ کریم سے محبت اور مسلمانوں کی اس طرف سے بے اعتنائی اور بے رغبتی کے بیان میں آپ حضرت کی ایک بہت ہی درد ناک نظم پیش کرتے ہیں۔اس نظم کے مضمون کے تعلق میں ایک