ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 316
المسيح 316 وہ ویران گھر کی طرح ہے۔ایک روایت میں ہے کہ ایسا ویران گھر جس میں کوئی رہ نہ سکے۔دار می کتاب فضائل القرآن حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لوگوں میں سے اہل اللہ ہیں عرض کیا گیا وہ کون ہیں یا رسول اللہ ؟ فرمایا : قرآن والے۔(دارمی کتاب فضائل القرآن) زیر نظر مضمون میں اب ہم اس مقام تک پہنچے ہیں کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی نعت قرآن کے نمونے پیش کریں اور مشاہدہ کروائیں کہ آپ حضرت کی مدح و منقبت قرآن کس قدر قرآن کریم اور ہمارے پیشوا صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اور نقش قدم پر ہے اول مقام پر تو یہ عظیم الشان نعت ہے کہ خالص طور پر لفظا و معنا قرآن کریم اور حدیث کا اتباع ہے۔فرماتے ہیں: جمال وحسن قرآں نورِ جانِ ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے نظیر اُس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے بہار جاوداں پیدا ہے اُس کی ہر عبارت میں نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اُس سا کوئی بستاں ہے کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز اگر ٹوٹوئے عثماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لاعلمی سخن میں اُس کے ہمتائی، کہاں مقدور انساں ہے بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نُورِ حق کا اُس پہ آساں ہے اسی انداز بیان اور قلبی محبت سے فرماتے ہیں: نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلی نکلا پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا