ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 310 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 310

ب المسيح 310 نور مدحتِ قرآن۔اردو زبان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات علوی کے لیے ”نور“ کی علامت کو اختیار فرمایا اور اس نور کی تجلیات خاص میں قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شمار کیا ہے۔دراصل قرآن کریم کی مدح و توصیف میں یہ مقام بہت اعلیٰ اور مکرم ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے نور کی تحلبی خاص ہے۔فرمایا: (النور: (36) اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحُ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِى يَوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ دُرِّيٌّ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيَّ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارُ نُوْرُ عَلَى نُورٍ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ خدا آسمان وزمین کا ٹو ر ہے یعنی ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے خواہ وہ ارواح میں ہے خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ پہنی ہے۔خواہ خارجی۔اُسی کے فیض کا عطیہ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہورہا ہے اور کوئی اس کے فیض سے خالی نہیں۔وہی تمام فیوض کا مبداء ہے اور تمام انوار کاعلت العلل اور تمام رحمتوں کا سر چشمہ ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت ) اس فیض عام کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فیض خاص کو بیان فرماتا ہے حضرت اقدس کہتے ہیں : خداوند تعالیٰ نے اوّل فیضانِ عام کو ( جو بدیہی الظہو ر ہے ) بیان کر کے پھر اُس فیضانِ خاص کو بغرض کیفیت نور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک مثال میں بیان فرمایا ہے کہ جو اس آیت سے شروع ہوتی ہے مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحُ۔۔۔۔الخ ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اور پھر فرمایا وحی قرآن اسی نور کو پکارتی ہے: سوقرآن شریف بھی اسی طر ز موزون و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدّت و رحمت و ہیبت و