ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 306 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 306

ب المسيح 306 مدحتِ قرآن کریم اس کتاب میں حضرت اقدس کے موضوعات شعر کے عنوان میں بیان ہو چکا ہے کہ آپ حضرت کے بعض موضوعات شعر ایسے ہیں جنکا آپ سے قبل یا ما بعد اسلامی ادب میں کوئی نام و نشان نہیں ملتا اور یہ بھی کہ اگر کسی شاعر نے اُن موضوعات پر کچھ کہا بھی ہے تو مختصر اور سرسری انداز میں ہے یعنی یہ کہ کسی نے ان موضوعات کو اپنے کلام کا مستقل اور اہم موضوع نہیں بنایا۔ان موضوعات میں سرفہرست مدحت وستائش قرآن ہے۔گوامت محمدیہ میں ان گنت صلحاء واصفیاء گذرے ہیں اور اُن سب نے قرآن کریم کی صداقت اور اسکی ترویج و تبلیغ میں عظیم الشان خدمات کی ہیں اور دین اسلام کا چراغ روشن رکھا ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ کسی نے اس موضوع کو اپنے شعری کلام کا اہم عنوان نہیں بنایا۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ قرآن کریم کی حقیقی اور کامل برکات کا ظہور دو ہی ہستیوں پر ہونا تھا اور اُن دو کو ہی یہ سعادت نصیب ہوئی تھی کہ قرآن کریم کی برکات کو حقیقی اور قلبی طور پر حاصل کریں اور پھر اس کے فضائل بیان کریں۔ان دو ہستیوں میں اول اور ہر مقام پر اول ہستی تو ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دوسری آپ کی دوسری تجلی ہے جس نے آپ ہی کی پیشگوئی کے مطابق مہدی آخر زمان کے طور پر آنا تھا یعنی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام۔حضرت اقدس آیت اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَب العلمین کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔فَحَاصِلُ هَذَا الْبَيَانِ اَنَّ اللَّهَ خَلَقَ أَحْمَدَيْنِ فِي صَدْرِ الْإِسْلَامِ وَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ وَ أَشَارَ إِلَيْهِمَا بِتَكْرَارِ لَفْظِ الْحَمْدِ فِى اَوَّلِ الْفَاتِحَةِ وَ فِي آخِرِهَا لِاهْلِ الْعِرُفَانِ۔وَ فَعَلَ كَذَالِكَ لِيَرُدَّ عَلَى النَّصْرَانِيِّينَ۔وَ أَنْزَلَ أَحْمَدَيْنِ مِنَ السَّمَاءِ لِيَكُونَا كَالْجِدَرَيْنِ لِحِمَايَةِ الْاَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت ) ترجمه از مرتب: پس خلاصہ بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو احمد پیدا کئے (ایک) اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اور (ایک) آخری زمانہ میں۔اور اللہ تعالیٰ نے اہل عرفان کے لیے سورۃ فاتحہ کے شروع میں اور اس کے آخر میں الحمد کا لفظاً ومعنا تکرار کر کے ان دونوں (احمدوں) کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔اور خدا نے ایسا عیسائیوں کی تردید کے لیے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے دو احمد آسمان سے اتارے تاوہ دونوں پہلوں اور پچھلوں کی حمایت کے لیے دو دیواروں کی طرح ہو جائیں۔