ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 299 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 299

299 ادب المسيح الغرض ذاتِ اولیائے کرام ہست مخصوص ملت اسلام خلاصہ کلام یہ کہ اولیائے کرام کی ذات مذہب اسلام کے ساتھ مخصوص ہے ترتیب کے اعتبار سے آخر پر مگر موضوع کے اعتبار سے سب سے اول وہ قصیدہ پیش کیا جاتا ہے۔جو آپ حضرت نے دینِ اسلام کی بے بسی اور پریشان حالی کے بیان میں تحریر فرمایا ہے۔جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ یہ قصیدہ سعدی کے قصیدے کے جواب میں ہے جو انہوں نے خلافت عباسیہ کی شکست وریخت کے غم میں تحریر کیا تھا جس کا مضمون یہ تھا کہ خلافت عباسیہ کے خاتمے سے اسلام کی عظمت وشان ختم ہوگئی ہے۔کہتے ہیں: آسماں راحق بودگر خوں ببارد برزمین بر زوال ملک مستعصم امیرالمومنین آسمان پر فرض ہے کہ مستعصم امیر المومنین کی تباہی پر زمین پر خون برسائے آپ حضرت نے سعد کی ہی کی زمین اور قافیہ میں اُس کا جواب پیش کیا ہے اور فرمایا کہ خون کے آنسو رونے کا مقام تو یہ ہے کہ اسلام بے یارو مددگار ہو گیا اور مسلمانوں میں کوئی اس کا حامی اور مدگار نہ رہا۔فرماتے ہیں: می سزد گر خوں بارد دیدہ ہر اہلِ دیں بر پریشاں حالیءِ اسلام و قحط المسلمیں و مناسب ہے کہ ہر دیندار کی آنکھ خون کے آنسو روئے۔اسلام کی پریشان حالی اور قحط المسلمین پر دین حق را گردش آمد صعبناک و سهمگیں سخت شورے اوفتاد اندر جہاں از کفر و کیس خدا کے دین پر نہایت خوفناک اور پر خطر گردش آگئی۔کفر وشقاوت کی وجہ سے دنیا میں سخت فساد برپا ہو گیا آنکه نفس اوست از هر خیر و خوبی بے نصیب مے تراشد عیبها در ذات خیرالمرسلین و شخص جس کا نفس ہر ایک خیر وخوبی سے محروم ہے وہ بھی حضرت خیر الرسل کی ذات میں عیب نکالتا ہے آنکه در زندان ناپاکی ست محبوس و اسیر هست در شانِ امام پاکبازاں نکتہ چیں! وہ جو خود ناپاکی کے قید خانے میں اسیر و گرفتا ہے وہ بھی پاکبازوں کے سردار کی شان میں نکتہ چینی کرتا ہے تیر بر معصوم سے بارد خیٹے بد گہر آسما نرا می سزد گرسنگ بارد بر زمیں بداصل اور خبیث انسان اُس معصوم پر تیر چلاتا ہے آسمان کو مناسب ہے کہ زمین پر پتھر برسائے پیش چشمان شما اسلام در خاک اوفتاد چیست عذرے پیش حق اے مجمع لمتنعمیں تمہاری آنکھوں کے سامنے اسلام خاک میں مل گیا۔پس اے گروہ امرا تمہارا خدا کے حضور میں کیا عذر ہے