ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 280 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 280

ب المسيح 280 یہ غزل بھی دیکھیں نَفْسِي الْفِدَاءُ لِبَدْرٍ هَاشِمِي عَرَبِی ایسا خوبصورت مطلع ہے کہ انسان اس پر فدا ہو جائے۔چند اشعار سن لیں نَفْسِي الْفِدَاءُ لِبَدْرٍ هَاشِمِي عَرَبِي وَدَادُهُ قُرَبِّ نَاهِيْكَ عَنْ قُرَبِ میری جان فدا ہو اس کامل چاند پر جو ہاشمی عربی ہے۔آپ کی محبت قربتوں کا ایسا ذریعہ ہے جو تجھے باقی قربت کے ذرائع سے بے نیاز کر دینے والا ہے نَجَّا الْوَرَى مِنْ كُلِّ زُورٍ وَّ مَعْصِيَةٍ وَمِنْ فُسُوقٍ وَّ مِنْ شِرْكِ وَّ مِنْ تَبَبِ آپ نے مخلوق کو ہر جھوٹ اور گناہ سے نجات دی اور فسق سے ، شرک سے ، اور ہلاکت سے بھی فَنُوِّرَتْ مِلَّةٌ كَانَتْ كَمَعْدُومٍ ضُعْفًا وَّ رُحِمَتُ فَرَارِى الْجَآنَ بِالشُّهُبِ پس منور ہوگئی وہ ملت جو معدوم کی طرح تھی ضعف میں۔اور شیطان کی ذریت شہابوں سے سنگسار کی گئی وَزَحْزَحَتْ دَخُنَّا غَشَّى عَلَى مِلَلٍ وَسَاقَطَتْ لُؤْلُؤًا رَطْبًا عَلَى حَطَبِ اور اس ملت نے ان تاریکیوں کو دور کر دیا جو قوموں پر چھائی ہوئی تھیں اور سوکھی لکڑیوں پر تر و تازہ موتی برسا دئے۔وَنَضَّرَتْ شَجُرَ ذِكْرِ اللَّهِ فِي زَمَن مَحْلٍ يُمِيتُ قُلُوبَ النَّاسِ مِنْ لَعِبِ اور اس ملت نے شاداب کر دیا اللہ کے ذکر کے درخت کو ایسے خشک سالی کے زمانے میں جو دلوں کو کھیل کو د سے مردہ کر رہا تھا۔فَلاحَ نُورٌ عَلَى أَرْضِ مُّكَدَّرَةٍ حَقًّا وَّ مُرِّقَتِ الْأَشْرَارُ بِالْقُضُبِ پس ظاہر ہوا ایک نور تاریک زمین پر یقینی طور پر اور پارہ پارہ کر دیے گئے شریر کاٹنے والی تیز تلواروں سے۔وَمَا بَقَى أَثَرٌ مِنْ ظُلْمٍ وَّ بِدْعَاتٍ بِنُورِ مُهْجَةِ خَيْرِ الْعُجُمِ وَالْعَرَبِ اور ظلم اور بدعات کا کوئی نشان باقی نہ رہا عرب و عجم میں سے بہترین شخص کی جان کے نور کی وجہ سے کرامات الصادقین میں اپنے دعاوی کے دلائل کو پیش کرتے ہوئے بہت ہی خوبصورت نعت میں فرمایا کہ آپ نے خدا تعالیٰ کو محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے حاصل کیا ہے اور پھر آپ کے محاسن بیان کئے ہیں۔رَتَيْنَاهُ مِنْ نُورِ النَّبِيِّ الْمُصْطَفَى وَلَوْلَاهُ مَا تُبْنَا وَلَا نَتَقَرَّبُ ہم نے اس (خدا) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کے ذریعہ پالیا۔اگر وہ نبی نہ ہوتا تو نہ ہم رجوع الی اللہ ) کرتے اور نہ ہم ( خدا کے ) مقرب بنتے۔