ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 278 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 278

المسيح 278 تسلسل نعت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زندہ ہونا اور اپنا امام الزمان ہونا بیان کرتے ہیں۔اور ایک دلفریب اور والہانہ انداز میں اپنے عشق و محبت کو پیش کرتے ہیں اور نہایت درد سے شکایت کرتے ہیں کہ قوم نے آپ کے عشق کے باوجود آپ کو کافر کہ کر تکلیف پہنچائی ہے۔فرماتے ہیں: ونبينا حی و انــی شـاهـد وقد اقتطفت قطائف اللقيان اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور بے شک میں گواہ ہوں اور میں نے آپ کی ملاقات کے ثمرات حاصل کئے ہیں۔و رأيت في ريعان عمرى وجهه ثم النبي بيقظتی لاقاني میں نے تو (اپنے ) عنفوانِ شباب میں آپ کا چہرہ مبارک دیکھا۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری بیداری میں بھی مجھے ملے ہیں۔انى لقد أحييت من احيائه واها لاعجاز فما أحياني بے شک میں آپ کے زندہ کرنے سے ہی زندہ ہوا ہوں۔سبحان اللہ! کیا اعجاز ہے اور مجھے کیا خوب زندہ کیا ہے! في هذه الدنيا و بعث ثان يارب صل علی نبیک دائمًا اے میرے ربّ! اپنے نبی پر ہمیشہ درود بھیجتا رہ۔اس دنیا میں بھی اور دوسری دنیا میں بھی یا سیدی قد جئت بابک لاهفا و القوم بالاكفار قد اذاني اے میرے آقا! میں تیرے دروازے پر مظلوم و مضطر فریادی کی حالت میں آیا ہوں جبکہ قوم نے ( مجھے ) کافر کہہ کر ایذا دی ہے یفری سهامک قلب کل محارب و يشج عزمك هامة الثعبان تیرے تیر ہر جنگجو کے دل کو چھید دیتے ہیں اور تیرا عزم اثر دھا کے سر کو کچل ڈالتا ہے أنت السبوق و سيد الشجعان لله درك يا امام العالم آفرین تجھ پر اے دنیا کے امام! تو سب پر سبقت لے گیا ہے اور بہادروں کا سردار ہے انظر الى برحمة وتحنن یا سیدى انا احقر الغلمان تو مجھ پر رحمت اور شفقت کی نظر کر۔اے میرے آقا! میں ایک حقیر ترین غلام ہوں پرر يا جب انك قد دخلت محبة في مهجتی و مدارکی و جنانی اے میرے آقا! تو از راہ محبت میری جان، میرے حواس اور میرے دل میں داخل ہو گیا ہے