ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 273 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 273

مصطفے آئینہ روئے خدا سرت 273 ادب المسيح س در وے ہماں خوئے خداست مصطفے تو خدا کے چہرہ کا آئینہ ہیں ان میں خدا تعالیٰ کی ہی تمام صفات منعکس ہیں گرند بدستی خدا او را ببین مَنْ رَانِي قَدْ رَأَى الْحَق ایں یقیں اگر تو نے خدا کو نہیں دیکھا تو انہیں دیکھ یہ حدیث یقینی ہے کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے حق کو دیکھا“ غزل کی صنف میں ایک بہت ہی خوبصورت اور دلر با نعت ایسی ہے کہ اس کا حسن و خوبی بیان نہیں ہوسکتی۔سادہ اور دلفریب مختصر مگر پر معارف۔عشق رسول میں ڈوبی ہوئی نعت ہے۔جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد است میری جان و دل محمد کے جمال پر فدا ہیں اور میری خاک آل محمد کے کوچے پر قربان ہے۔دیدم بعین قلب و شنیدم بگوش ہوش در هر مکان ندائے جلال محمد است میں نے دل کی آنکھوں سے دیکھا اور عقل کے کانوں سے سنا۔ہر جگہ محمد کے جلال کا شہرہ ہے ایں چشمہ رواں کہ خلق خدا دہم یک قطره ز بحر كمال محمد است معارف کا یہ دریائے رواں جو میں مخلوق خدا کو دے رہا ہوں۔یہ محمد کے کمالات کے سمندر میں سے ایک قطرہ ہے این آتشم ز آتش مهر محمدی ست و ایس آب من ز آب زلال محمد است یہ میری آگ محمد کے عشق کی آگ کا ایک حصہ ہے اور میرا پانی محمد کے مصفا پانی میں سے لیا ہوا ہے غزل میں ایک اور پر معارف صدق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان میں ایک بہت ہی مؤثر نعت ہے۔عجب نوریست در جان محمد عجب لعلیست در کان محمد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان میں ایک عجیب نور ہے محمد کی کان میں ایک عجیب و غریب لعل ہے ز ظلمت با دلے آنگه شود صاف که گردد از محبان محمد دل اُس وقت ظلمتوں سے پاک ہوتا ہے جب وہ محمد صلعم کے دوستوں میں داخل ہو جاتا ہے عجب دارم دل آن ناکسان را که رو تابند از خوان محمد میں ان نالایقوں کے دلوں پر تعجب کرتا ہوں جو محمد صلعم کے دستر خوان سے منہ پھیر تے ہیں ندانم بیچ نفسی در که دارد شوکت و شان محمد دونوں جہان میں میں کسی شخص کو نہیں جانتا جو محمد کی سی شان و شوکت رکھتا ہو ذیل مستان محمد اگر تو نفس کی بدمستیوں سے نجات چاہتا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مستانوں میں سے ہو جا رو عالم اگر خواہی نجات از ہستی نفس! بیا در