ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 270
المسيح 270 چه می دارد بمدح کس نیاز مدح او خود فخر ہر مدحت گرے اُسے کسی کی تعریف کی کیا حاجت ہے اس کی مدح ہر مدحت گر کے لئے باعث فخر ہے ت او در روضه قدس و جلال و از خیال مادحاں بالا ترے وہ پاکیزگی اور جلال کے گلستان میں متمکن ہے اور تعریف کرنے والوں کے وہم سے بالا تر ہے اے خدا بر وے سلام ما رساں ہم بر اخوانش ز ہر پیغمبرے اے خدا ہمارا سلام اس تک پہنچا دے نیز ہر پیغمبر پر جو اس کا بھائی ہے اور آخر پر تمام انبیا اور خاص طور پر رسول اکرم کے طفیل ایک نہایت ہی مؤثر اور عاجزانہ مناجات کرتے ہیں۔し پیغمبران را چاکریم! ہمچو خاکے اوفتاده پر درے ہم تو سب پیغمبروں کے غلام ہیں اور خاک کی طرح اُن کے دروازہ پر پڑے ہیں ہر رسولے کو طریق حق نمود جان ما قرباں برآں حق پرورے ہے ہر وہ رسول جس نے خدا کا راستہ دکھایا ہماری جان اُس راستباز پر قربان اے خداوندم به خیل انبیا کش فرستادی به فضل اوفرے اے میرے خدا ان انبیاء کے گروہ کے طفیل جن کو تو نے بڑے بھاری فضلوں کے ساتھ بھیجا ہے معرفت ہم وہ چو بخشیدی دلم ئے بدہ زاں ساں کہ دادی ساغرے مجھے معرفت عطا فرما، جیسے تو نے دل دیا ہے شراب بھی عطا کر جبکہ تو نے جام دیا ہے کش شدی در هر مقامے ناصرے اے خداوندم مصطف خداوندم بنام اے میرے خدا۔مصطفے کے نام پر جس کا تو ہر جگہ مددگار رہا ہے دست من گیر ازره لطف و کرم در مهم باش یار و یاورے اپنے لطف و کرم سے میرا ہاتھ پکڑ اور میرے کاموں میں میرا دوست اور مددگار بن جا تکیه بر زور تو دارم گرچه من ہنچو خاکم بلکہ زاں ہم کمترے میں تیری قوت پر بھروسہ رکھتا ہوں اگر چہ میں خاک کی طرح ہوں بلکہ اس سے بھی کم تر دوسرا را ئیہ قصیدہ بھی مشاہدہ کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب الہی کے بیان میں فرماتے ہیں: چوں زمن آید ثنائے سرورِ عالی تبار عاجز از مدحش زمین و آسمان هر دو دار مجھ سے اس عالی قدر سردار کی تعریف کس طرح ہو سکے جس کی مدح سے زمین و آسمان اور دونوں جہان عاجز ہیں و