ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 268
المسيح 268 آنکه جانش عاشق یار ازل آنکه روحش واصل آن دلبری وہ جس کی جان خدائے ازلی کی عاشق ہے وہ جس کی روح اُس دلبر میں واصل ہے آنکه مجذوب عنایات حق است بری ہمچو طفلے پروریده در وہ جو خدا کی مہربانیوں سے اُس کی طرف کھینچا گیا ہے اور خدا کی گود میں ایک بچہ کی مانند پلا ہے آنکه در پر و کرم بحر عظیم آنکه در لطف اتم یکتا ڈرے وہ جو نیکی اور بزرگی میں ایک بحر عظیم ہے اور کمال خوبی میں ایک نایاب موتی ہے آنکه در جود و سخا ابر بهار آنکه در فیض و عطا یک خاورے جو بخشش اور سخاوت میں ابرِ بہار ہے اور فیض و عطا میں ایک سورج ہے آن کریم و جودِ حق را مظہرے وہ وہ اں رحیم و رحم حق را آیتے رحیم ہے اور رحمت حق کا نشان ہے وہ کریم ہے اور بخشش خداوندی کا مظہر ہے آن رخ فرخ که یک دیدار او زشت رو را می کند خوش منظری اُس کا مبارک چہرہ ایسا ہے کہ اُس کا ایک ہی جلوہ بد صورت کو حسین بنا دیتا ہے آں دل روشن که روشن کرده است صد درون تیره را چون اختری وہ ایسا روشن ضمیر ہے جس نے روشن کر دیا سینکڑوں سیاہ دلوں کو ستاروں کی طرح آں مبارک ہے کہ آمد ذاتِ أو رحمتے زاں ذات عالم پرورے وہ ایسا مبارک قدم ہے کہ اُس کی ذات خدا تعالیٰ کی طرف سے رحمت بن کر آئی ہے احمد آخر زمان کز نور او شد دل مردم ز خور تاباں ترے اس احمد آخر زماں کے نور سے لوگوں کے دل آفتاب سے زیادہ روشن ہوگئے از بنی آدم فزوں تر در جمال وز لالی پاک تر در گوھرے وہ تمام بنی آدم سے بڑھ کر صاحب جمال ہے اور آب و تاب میں موتیوں سے بھی زیادہ روشن ہے بر لبش جاری ز حکمت چشمه در دلش پر از معارف کوثرے اس کے منہ سے حکمت کا چشمہ جاری ہے اور اُس کے دل میں معارف سے پر ایک کوثر ہے اور قرآن کے فرمان کے مطابق آپ کے خدمت خلق کے جذبے کو بیان کرتے ہیں۔عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمُ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ ( التوبة : 128) ترجمہ : ” یعنی یہ رسول تمہاری تکلیف کو دیکھ نہیں سکتا۔وہ اس پر سخت گراں ہے۔اور اُسے ہر