ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 267
267 ادب المسيح حضرت اقدس کی نعت رسول اکرم فارسی زبان میں بہت درست کہا گیا ہے کہ فارسی زبان کا مزاج روحانی ہے۔یہ حقیقت فارسی ادب کی تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ ابوالسعید ابوالخیر سے لے کر سعدی۔رومی۔جاتی۔اور سنائی تک بلکہ اس منصب کے اور بہت سے اساتذہ نے ثناء باری تعالیٰ اور نعت رسول اکرم اور محبت الہی کے موضوعات کو اپنے ادب کا نصب العین بنالیا تھا یہ فارسی زبان کی قابل ناز خوش نصیبی ہے شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ ابناء فارس میں سے ایک امام آخر زمان نے آنا تھا اور اس نے اس زبان میں اہل زبان کی طرح سے حقیقی محبت الہی کی ذیل میں تمام روحانی موضوعات پر کلام تخلیق کرنا تھا۔اس زبان سے محبت رکھنے والوں کے لئے تو یہ مناسبت بہت موزوں اور عزیز ہوگی۔اس بیان کے اثبات میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اقدس نے نعت رسول کو فارسی زبان میں بہت کثرت سے بیان کیا ہے اور ہر صنف شعر میں بیان کیا ہے۔نعت، قصائد ، مثنوی ، ابیات ، غزل اور نظم میں بھی ہے۔یہ صورت تو خاص اس موضوع کے تحت کلام کی ہے وگرنہ آپ حضرت کے دستور کلام کے مطابق تو ہر روحانی موضوع یکے بعد دیگرے اول آخر پر کروٹ بدلتا رہتا ہے۔اس لیے عشق رسول اکرم کے تحت نعتیہ کلام سے آپ کی زبانِ مبارک تر رہتی ہے۔بات سے بات نکل رہی ہے معلوم نہیں کس کا ہے مگر دلفریب ہے۔ما طفل کم سواد سبق قصہ ہائے دوست صد بار خوانده و دگر از سر گرفته ایم ہم ایسے نالائق طفل مکتب ہیں کہ دوست کے قصے کو سو بار پڑھا ہے مگر اس کو پھر سے پڑھنے لگتے ہیں اس کثرتِ بیان کے ہوتے ہوئے ہم نے یہ دستور اختیار کیا ہے کہ ہر صنف کلام سے نعت کے مضامین کے تحت کلام کو پیش کریں ابتدا آپ کے عظیم الشان دعائیہ قصیدے سے کرتے ہیں۔آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ کے بیان کو بہت محبت اور جوش سے شروع کرتے ہیں اور قصیدے کی اقدار ادب کے مطابق بہت ہی تمکنت اور عالمانہ انداز میں فرماتے ہیں: در دلم جوشد ثنائے سرورے آنکه در خوبی ندارد ہمسرے میرے دل میں اُس سردار کی تعریف جوش مار رہی ہے جو خوبی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا