ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 258 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 258

ادب المسيح فرماتے ہیں۔258 لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى اَكُونَ احَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَ النَّاسِ أَجْمَعِينَ (بخاری کتاب الايمان ، باب حبّ الرسول من الايمان) ترجمہ : ”تم میں سے کوئی کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے والد اور اپنی اولاد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر مجھ سے محبت نہ کرے“ اس مقام تک ہم نے نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب اور اس کے اسالیب ادب کی تعین میں گزارشات کی ہیں اور آپ کی منقبت میں اللہ تعالیٰ کے فرمودات پیش کئے۔نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان میں ہم نے بہت اختصار سے آنحضرت کے وہ مناقب اور عظمت بیان کی ہے جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمان کی ہے اور یہی وہ حقیقی اور صداقت پر مبنی عظمت رسول ہے جو آپ کی شایانِ شان ہے۔مگر ہم چاہتے ہیں کہ قرآن کریم کے مناقب کے ذیل میں اور اس کی روشنی میں آنحضرت نے جو اپنی عظمت وشان بیان کی اور اس کو بھی چند الفاظ میں پیش کر دیں احادیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے مناقب کے بیان سے بھر پور ہیں ہم ان فرمودات میں سے صرف تین اقتباسات پیش کرتے ہیں۔اول مقام پر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرض منصبی کو بیان کرتے ہیں جس کی بجا آوری کے لیے آپ کو اور دیگر تمام انبیاءعلیھم السلام کو مبعوث کیا گیا ہے جیسا کہ گذشتہ میں سورہ ھود کی آیت نمبر 2 اور 3 میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر کیسا تھ بیان ہوا ہے کہ آپ کو خدائے واحد پر ایمان اور صرف اس کی عبادت کے قیام کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔اس منصب عالی کے بیان میں آپ فرماتے ہیں کہ نوع انسانی میں سب سے اوّل آپ کو واحد خدا کی شناخت کا عطیہ دیا گیا اور منصب نبوت سے سرفراز کیا گیا ہے۔فرماتے ہیں:۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ الا الله مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوةُ قَالَ وَادَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَ الْجَسَدِ (ترمذی ابواب المناقب) ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے لئے نبوت کب واجب ہوئی؟ آپ نے فرمایا اس وقت جب کہ حضرت آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔