ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 234 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 234

د المسيح 234 نظم کی صنف میں یہ قدرے طویل ہیں۔خیال تھا کہ ان کے چیدہ چیدہ اشعار کا انتخاب کر کے پیش کر دیں گے مگر ایسا عمل ممکن نہیں ہوا۔اول تو اس لیے کہ کوئی بھی شعر ایسا نہیں تھا جس کو نظر انتخاب درخوراعتناء نہ بجھتی ہو اور قبول نہ کرتی ہو اور دوم اس لیے کہ نظم ایک ایسی صنف ہے جس کا ہر شعر باہم مربوط اور منظم ہوتا ہے۔اور اس کا حسن تسلسل بیان میں ہی ہوتا ہے۔تاہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ آپ حضرت کے اسالیب ثنا کے تحت اس کلام کے حسن و خوبی کو پیش کریں۔اول نظم کے ابتدائی تین اشعار سخن نزدم مراں از شہر یارے سے لیکر رحیم و محسن و حاجت برارے میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا ذکر ہے اور ایسے جوش و جذبے سے ہے کہ فارسی زبان میں ایسی مثال تلاش کرنا بے سود ہوگا۔وو اس ابتدا کے بعد جو دراصل اس نظم کا مطلع ہے۔آپ محبت باری تعالیٰ کو بیان کرتے ہیں اور چوں آں یار وفادار آیدم یاڈ سے لیکر ” مرا با عشق او وقت ست معمور تک خدا تعالیٰ پر محبت سے فدا ہونے کا بہت ہی خوبصورت بیان ہے اور اس کے احسانات کی یاد ہے مشاہدہ کریں۔دلم در سینه ریشم مجوئید که سیمش بدامان نگارے دل من دلبرے را تخت گا ہے سر من در ره یارے تارے مرا با عشق او وقتے ست معمور چه خوش وقتے چہ ختم روزگارے بہت ہی خوبصورت اور محبت کے جوش سے بھر پور کلام ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے باری تعالیٰ اپنے کامل حسن و جمال کے ساتھ آپ کے روبرو ہو اور آپ محبت میں بیتاب ہو کر اور اپنی خوش قسمتی پر ناز کرتے ہوئے یہ عرض کر رہے ہوں چه خوش وقتے چه حرم روزگارے