ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 232 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 232

المسيح 232 در و در ذات تو جو تحیرے نیست ہنگام نظر نصیب افکار ! تیری ذات کے بارے میں حیرت ہی حیرت ہے۔غور وفکر سے جب بھی دیکھا جائے ر غیبی و قدرت ہویدا پنهانی کار تو نمودار ! تو آپ غیب میں ہے مگر تیری قدرت ظاہر ہے تو مخفی ہے مگر تیرے کام نمایاں ہیں دوری و قریب تر ز جاں ہم نوری و نہاں تر از شب تار تو دور ہے مگر جان سے بھی زیادہ نزدیک ہے تو نور ہے مگر اندھیری رات سے زیادہ پوشیدہ آں کیست کہ منتہائے تو یافت واں گو کہ شود محیط اسرار وہ کون ہے جس نے تیری انتہا کو پایا اور وہ کون ہے جو تیرے بھیدوں پر حاوی ہو گیا کردی دو جہاں عیاں ز قدرت بے مادہ و بے نیاز انصار تو نے محض قدرت سے دونوں جہان پیدا کر دیئے بغیر ماہ کے اور بغیر مددگاروں کی امداد کے و این طرفه که هیچ کم نه گردد با آنکہ عطائے تُست بسیار پھر لطف یہ ہے کہ ان نعمتوں میں کوئی کمی نہیں پڑتی باوجود یکہ تیری بخششیں بے حد ہیں حسن تو غنی کند ز ہر حسن! میر تو بخود کشد ز هر یار! تیرا حسن ہر حسن سے بے نیاز کر دیتا ہے اور تیری محبت ہر دوست کو چھڑا کر اپنی طرف کھینچ لیتی ہے نمکیت ار نه بودے از حُسن نہ بودے بیچ آثار نمکین حسن نہ ہوتا تو دنیا میں حسن کا نام ونشان نہ ہوتا شوخی ز تو یافت روئے خوباں رنگ از تو گرفت گل محبوبوں کے چہروں نے تجھ سے رونق پائی پھول نے چمن میں تجھ سے رنگ حاصل کیا سیمیں ذقناں کہ سیب دارند آمدن ہماں بلند اشجار حسینوں کے پاس جو سیب جیسے رخسار ہیں۔یہ انہی اونچے درختوں سے آئے ہیں۔ایں ہر دو ازاں دیار آیند گیسوئے بتان و مشک تاتار یہ دونوں بھی اُسی ملک سے آتے ہیں۔حسینوں کے گیسو اور تاتار کا مشک نمایش جمالت ! چیز آئینه دار! ہمہ تیرے جمال کی نمایش کے لئے میں ہر چیز کو آئینہ سمجھتا ہوں از اگر تیرا بیر بینم به گزار