ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 229 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 229

229 ادب المسيح چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے“ سے لے کر آخری دلفریب شعر تک شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا خدا تعالیٰ کی ثناء اس کی محبت کے اظہار کی نسبت سے کی گئی ہے۔اور یہ شعر خدا تعالیٰ کے فرمان فَاذْكُرُ وا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (البقرة: 201) حضرت اقدس اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔یعنی اپنے اللہ جل شانہ کو ایسے دلی جوش محبت سے یاد کرو جیسا باپوں کو یاد کیا جاتا ہے“ ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) یا د رکھنا چاہیے کہ مخدوم اس وقت باپ سے مشابہ ہو جاتا ہے جب محبت میں غایت درجہ شدت واقع ہو جاتی ہے ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہی پسند کیا کہ اس کی یاد اور اُس کا ذکر اور ثنا ایسی محبت سے کرو جیسی کہ اپنے باپوں بلکہ اُن سے بڑھ کر کی جاتی ہے۔گذشتہ کے تقابل سے یہ امر ثابت ہو گیا کہ اللہ جلّ شانہ نے ثنا کے یہی اسالیب بیان کئے ہیں۔اول:۔اس کی ذات کا حسن و جمال بیان ہو۔دوم:۔اس کی عظمت اور کبریائی کا ذکر ہو۔سوم :۔اس کی محبت کا دل و جان سے اقرار ہو۔چہارم :۔دعا اور مناجات ہو۔کیونکہ یہ اس کی کبریائی اور انسانی عبودیت کا عملی ثبوت ہے۔یہ بات درست ہے کہ آپ حضرت نے ان موضوعات کو لازما اس ترتیب سے اختیار نہیں فرمایا مگر اس بیان میں صداقت ہے کہ آپ حضرت کی ثناء کے یہی عناصر اربعہ ہیں۔اور یہی وہ دستور اور اسلوب ہے جو حضرت اقدس نے باری تعالیٰ کی حمد وثنا کے لیے اختیار فرمایا ہے اور اس کا التزام آپ حضرت نے اپنے اردو اور عربی فارسی کلام میں کیا ہے۔ان گذارشات کی روشنی میں ہم اپنے قارئین سے عرض کریں گے کہ دیگر زبانوں کی حمدوثنا کو اسی معیار کے تحت مشاہدہ کریں۔کیونکہ ایک ہی بات کو بار بارد ہرا نا زیب نہیں دیتا۔