ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 230
ب المسيح 230 فارسی زبان میں ثناء باری تعالیٰ فارسی زبان میں اصولی اور آفاقی شناء باری تعالیٰ کا ایک بہت ہی باوقار اور محبت بھرانمونہ گذشتہ میں بیان ہو چکا ہے۔اس مضمون کی ترتیب کو قائم رکھنے کی غرض سے ادب پارے کے آخری دو شعر دوبارہ پیش کئے جاتے ہیں۔فرماتے ہیں۔ہر سرے سرے زخلوت گاہ اوست ہر قدم جوید در با جاه اوست ہر سر اس کے اسرار خانہ کا ایک بھید ہے ہر قدم اُسی کی باعظمت بارگاہ کی تلاش میں ہے مطلب ہر دل جمال روئے اُوست گھر ہے گر ہست بہر کوئے اُوست اُسی کے منہ کا جمال ہر ایک دل کا مقصود ہے اگر کوئی گمراہ بھی ہے تو وہ بھی اسی کے کوچے کی تلاش میں ہے باری تعالیٰ کی آفاقی شنا میں یہ اشعار شاہکار ہیں یہ تو کہا جا چکا ہے کہ فارسی زبان بولنے والے ادیبوں نے اسلام کا پیغام قبول کرنے پر بہت جلد اپنا موضوع ادب محبت الہی اور عشق رسول بنالیا تھا اس لیے اس زبان میں ان مضامین کو بیان کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگئی۔اس بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ گو حضرت اقدس کا حقیقی موضوع کلام محبت اور عظمت الہی کے بیان ہی میں ہے مگر فارسی زبان میں یہ موضوع آپ کا دل پسند عنوان ہے اس لیے آپ ہر قدم پر اس کی طرف بار بار لوٹ کر آتے ہیں اور بے انتہا ادبی شان اور دلی جذبے سے اس کو بیان کرتے ہیں۔آپ حضرت کے حمد وثنا کے کلام کے جو اسالیب ہم نے بیان کیے ہیں ان کے مطابق ذیل کی عظیم الشان اور لاثانی شنا کا مشاہدہ کریں۔دو نمونے پیش کرتا ہوں۔اول۔سخن نزدم مرال از شہر یارے کہ ہستم بر درے اُمید وارے میرے سامنے کسی بادشاہ کا ذکر نہ کر کیونکہ میں تو ایک اور دروازہ پر امیدوار پڑا ہوں کریم و خالق و خداوند یکہ جاں بخش جهان ست بدیع پروردگارے وہ خدا جو دنیا کو زندگی بخشنے والا ہے اور بدیع اور خالق اور پروردگار ہے و قادر و مشکل کشائے رحیم و محسن و حاجت برارے کریم و قادر ہے اور مشکل کشا ہے رحیم ہے۔محسن ہے اور حاجت روا ہے فتادم بر درش زیر آنکه گویند برآید در جہاں کارے ز کارے میں اُس کے دروازہ پر آپڑا ہوں کیونکہ مثل مشہور ہے کہ دنیا میں ایک کام میں سے دوسرا کام نکل آتا ہے