ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 228
المسيح 228 کس قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا اس بہار محسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تا تارکا تو مکمل طور پر باری تعالیٰ کی اس شنا کی تفسیر وتعبیر معلوم ہوتے ہیں۔اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (النور: 36) حضرت اقدس اس فرمان کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”خدا آسمان وزمین کا نور ہے۔یعنی ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے خواہ وہ ارواح میں ہے خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ ذہنی ہے خواہ خارجی اُسی کے فیض کا عطیہ ہے“۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) مشاہدہ کریں مطلع کے اشعار نظم میں وہی بیان کر رہے ہیں جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے: ان اشعار کے بعد ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف سے لے کر جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا تمام اشعار خدا تعالیٰ کے ذیل کے فرمان کی تفسیر ہے۔تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَوتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسِحُ بِحمدِم وَلكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيْمًا غَفُورًا (بنی اسرائیل: 45) اس آیت کی تفسیر میں حضرت اقدس فرماتے ہیں یعنی ہر ایک چیز اس کی پاکی اور اس کے محامد بیان کر رہی ہے۔مشاہدہ کریں کہ یہ مضمون وہی ہے جو درج بالا اشعار میں بیان ہوا ہے۔اور