ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 225
225 ادب المسيح اُس بن نہیں گزارا غیر اُس کے جھوٹ سارا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي یہ چند بند آپ حضور کی نظم بعنوان ”محمود کی آمین کا ابتدائیہ ہے اور دعائیہ نظم ہونے پر دستور ادب کے مطابق اول اشعار ثناء باری تعالیٰ کے ہیں۔یہ وہ بند ہیں کہ جن کی بندش اور بیان کے حسن و خوبی کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں کہ اردو ادب کے اسلوب کے لحاظ سے بے انتہا نرم و نازک کلام اور سہل ممتنع کا ایک نادر نمونہ ہیں۔اور ثناء کے ساتھ ساتھ محبت الہی ایسی ہے جیسے ایک شفاف صراحی سے قطرہ قطرہ آب کوثر ٹپک رہا ہے۔درحقیقت ان کی کچھ ایسی ہی تاثیر ہے جس نے ان کو ہر احمدی کا حرزِ جان بنا دیا ہے۔ان کا کوئی خوشی کا موقع اور قومی تہوار ایسا نہیں جہاں پر یہ بند بغرض دعا و برکت پڑھے نہ جاتے ہوں۔اس نوعیت کے چند ثناء کے اشعار خاکسار کو بہت پیارے ہیں۔یہ اشعار حضرت اقدس نے بزبان حضرت اماں جان اظہار تشکر میں رقم فرمائے ہیں: ہے عجب میرے خُدا میرے پہ احساں تیرا رکس طرح شکر کروں اے میرے سُلطاں تیرا ایک ذرہ بھی نہیں تونے کیا مجھ سے فرق میرے اس جسم کا ہر ذرہ ہو قُرباں تیرا سر سے پا تک ہیں الہی ترے احساں مجھ پر مجھ پہ برسا ہے سدا فضل کا باراں تیرا فضل سے اپنے بچا مجھ کو ہر اک آفت سے صدق سے ہم نے لیا ہاتھ میں داماں تیرا کوئی ضائع نہیں ہوتا جو تیرا طالب ہے کوئی رُسوا نہیں ہوتا جو ہے جویاں تیرا آسماں پر سے فرشتے بھی مدد کرتے ہیں کوئی جس نے دل مجھ کو دیا ہوگیا سب کچھ اُس کا ہو جائے اگر بندہ فرماں تیرا سب شنا کرتے ہیں جب ہووے ثناخواں تیرا