ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 222 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 222

ب المسيح (2) الحمد للہ“۔باری تعالیٰ فرماتے ہیں۔222 وَهُوَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (القصص: (71) حضرت اقدس اس کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اس کے لیے تمام محامد ثابت ہیں اور دُنیا و آخرت میں وہی منعم حقیقی ہے اور اسی کے ہاتھ میں ہر یک حکم ہے اور وہی تمام چیزوں کا مرجع و تاب ہے۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) (3) ” ولا الہ الا اللہ۔باری تعالیٰ فرماتے ہیں۔هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ حضرت اقدس لا اله الا اللہ کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: و ہی ایک سب کا رب ہے“ (الحشر: 23) (سورۃ الحشر کی آیت 23-24-25 کی تفسیر حضرت اقدس گزشتہ میں بیان ہو چکی ہے) (4) اللہ اکبر“ کے تحت باری تعالیٰ فرماتے ہیں۔فَلِلَّهِ الْحَمْدُ رَبَّ السَّمَوتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجاثية : 38،37) پس اللہ جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور تمام جہانوں کا رب ہے اور آسمانوں اور زمین میں سب بڑائی بھی اُسی کی ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔ثناء باری تعالیٰ کے تعارف کے اس نہ ختم ہونے والے مضمون کو ہم اس حد تک بیان کر کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شعری ثناء کے چند منتخب نمونے پیش کرتے ہیں۔اسی پیش کش سے قبل یہ یاد دہانی بہت ضروری ہے کہ ہم گذشتہ میں بہت تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ آپ حضرت کے ادبی شاہ پاروں کی خصوصیت اور محور محبت الہی ہے اس لیئے ثناء باری تعالیٰ میں گو آپ باری تعالیٰ کی ذات وصفات کی حمد و تعریف بھی کرتے ہیں مگر اس کا حقیقی محرک محبت الہی ہے۔جس نے باری تعالیٰ کی عظمت اور حسن و جمال کو صرف علمی طور پر ہی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے اس کی محبت میں مبتلا ہو کر بیان کیا ہے۔یہی وہ چیز ہے جو آپ کے کلام کو دیگر شعراء