ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 197 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 197

فرماتے ہیں: 197 ادب المسيح 66 لا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ “ (مسلم كتاب الصلاة باب مايقول في الركوع والسجود) (اے اللہ ) میں تیری ثناء کا حق ادا نہیں کر سکتا۔تیری ثناء وہی ہے جو تو نے خود کی ہے۔آپ صلعم کے نائب اور مہدی آخر زمان نے بھی آپ ہی سے تعلیم پا کر وہی بات کی ہے آپ فرماتے ہیں۔اے خدا اے کارساز و عیب پوش و کردگار اے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار کس طرح تیرا کروں اے ڈوالمن شکر و سپاس عربی میں فرماتے ہیں۔وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار يَا مَنْ أَحَاطَ الْخَلْقَ بِالْآلَاءِ تُقْنِي عَلَيْكَ وَ لَيْسَ حَوْلُ ثَنَاءِ اے وہ ذات جس نے اپنی نعمتوں سے مخلوق کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ہم تیری تعریف کرتے ہیں لیکن تعریف کی طاقت نہیں پاتے۔اسی کمی کی وجہ سے خدا کی حمد کے لیے خدا تعالیٰ سے مدد کے طلبگار ہوتے ہیں۔بكَ الْحَوْلُ يَا قَيُّومُ يَا مَنْبَعَ الْهُدَىٰ فَوَفِّقْ لِي أَن أُثْنِي عَلَيْكَ وَ أَحْمَدَا اے قیوم! اے سرچشمہ ہدایت ! تجھ ہی سے طاقت ملتی ہے۔پس مجھے توفیق دے کہ میں تیری ثنا کروں اور حمد کروں ان فرمودات کے بعد یہ امر تو ثابت ہے کہ باری تعالیٰ کی حمد وثنا کے مضمون میں کچھ بیان کرنا اس کو زیب دیتا ہے جو محبوب الہی ہو اور جس کو دیدار اور گفتار باری تعالیٰ نصیب ہوا ہو۔جیسے فرماتے ہیں۔دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حسن و جمال یار کے آثار ہی سہی ان گذارشات کی روشنی میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ حمد و ثناء کے معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا راہنمائی فرمائی ہے۔اول قدم پر آپ حضرت نے الحمد للہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ “ خدا تعالیٰ کا اسم ذات ہے اور