ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 196 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 196

ب المسيح 196 حمد و ثناء باری تعالیٰ باری تعالیٰ جل شانہ کی ایسی لا یدرک الابصار اور وراء الوری عظمت اور شان ہے کہ اس کی جناب سے آنے والے انبیاء اور مرسلین بھی اس کو بیان کرنے کا یہی طریق اختیار کرتے ہیں کہ جو اس عالی جناب نے اپنی شان میں کہا ہے اس کی وہی حقیقی شان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی اپنی حقیقی عظمت کو جانتا ہے اور انسان کو یہ عرفان اس کی استعداد کے مطابق دیا جاتا ہے اور یہ عرفان اُسی میں محقق ہوتا ہے جو عاشق الہی ہو بلکہ یوں کہنا درست ہوگا کہ ثنائے باری تعالیٰ کا سب سے بڑا محرک اور فجر امحبت الہی ہی ہے جس کو اللہ نے ایک شرط کے طور پر قائم کیا ہے۔فرمایا:۔قُل إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبُكُمُ اللهُ۔۔۔الى الآخر (ال عمران: 32) حضرت اقدس اس فرمان الہی کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے ہولو اور میری راہ پر چلو تا خدا بھی تم سے پیار کرے اور تمہارے گناہ بخشے اور وہ بخشندہ اور رحیم ہے“ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) روحانیت کی نشو ونما اور زندگی کے لیے صرف ایک ہی ذریعہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے۔وہ اتباع رسول ہے قرآن شریف اگر کچھ بتاتا ہے تو وہ یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو اشد حبا لله (البقرہ: 166 ) کے مصداق ہو اور فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران: (32) پر عمل کرو اور ایسی فناء اتم تم پر آجائے کہ تبلُ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا (المزمل : 9) کے رنگ سے تم رنگین ہو جاؤ۔اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم کرلو۔دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت ال عمران : 32) قرب الہی کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے باری تعالیٰ کی عظمت و شان کا حقیقی مشاہدہ کرنے والے انبیاء علیہ السلام ہی ہوتے ہیں اور زمرہ انبیاء میں قرب الہی میں سب سے اعلیٰ مقام پر فائز ہمارے پیارے آقا اور مطاع پاک محمد مصطفے نبیوں کے سردار ہیں اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرفان کو سب سے اوّل بیان کیا ہے۔