ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 176 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 176

المسيح 176 دستیاب نہیں ہوگا۔اور یہ بیچ بھی ہے کیونکہ نہ ایسی بہار کسی پر آئی نہ اس نے اس بہار کے مزے لوٹے۔یہی وجہ ہے کہ آپ حضرت اقدس اپنی آمد اور اپنے وقت کو بہار کی آمد ، اور گل وگلز ار کا زمانہ کہتے ہیں۔فرماتے ہیں: غافلان من نی یار آمده ام بچو باد بہار آمده ام ترجمہ: اے غافلو میں محبوب کے پاس سے آیا ہوں اور بادِ بہار کی طرح آیا ہوں این زمانم زمانه گلزار موسم لالہ زار و وقت بہار ترجمہ یہ میرا زمانہ گلزار کا زمانہ ہے۔یعنی لالہ زار کا موسم اور بہار کا وقت ہے اور پھر محبوب حقیقی کی جناب میں عرض کرتے ہیں کہ تو ہی میری حقیقی بہار ہے۔فصل بهار و موسم گل نایدم بکار کاندر خیال روئے تو ہر دم بگشتم ترجمہ: فصل بہار اور پھولوں کا موسم میرے لیے بیکار ہیں کیونکہ میں تو ہر وقت تیرے چہرے کے خیال کی وجہ سے ایک چمن میں ہوں۔اپنی ماموریت اور بعثت کو کس شان اور یقین کیساتھ باغ اور اس کے اثمار کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔فرماتے ہیں: مامورم و مرا چه درین کار اختیار رو این سخن بگو بخداوند آمرم! ترجمہ: میں تو مامور ہوں مجھے اس کام میں کیا اختیار ہے جا! یہ بات میرے بھیجنے والے خدا سے پوچھ اے آنکہ سوئے من بد ویدی بصد تبر از باغباں بترس که من شارخ مشمرم ترجمہ: اے وہ جو میری طرف سینکڑوں کلہاڑے لے کر دوڑا ہے باغبان سے ڈر کیونکہ میں ایک پھلدار شاخ ہوں اور اسی تشبیہ کے تسلسل میں حیرت سے فرماتے ہیں کہ اب جبکہ میرے باغ میں ہزاروں پھول کھل چکے ہیں تو پھر بہار کے انتظار میں کسی اور باغ کی طرف کیا دیکھنا۔دگر کجا و چنیں قدر تے کرا باشد چو مہر انور و تاباں ھمے فشانم نور ترجمہ: میں روشن اور چمکدار سورج کی طرح نور پھیلا رہا ہوں۔دوسرا کہاں ہے؟ اور ایسی قدرت کس میں ہے؟ زکار ہا کہ کنم و زنشاں کہ بنمایم عیاں شود که همه کارم از خدا باشد