ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 167
167 ادب المسيح بیا مدم که در علم و رشد بکشائم بخاک نیز نماییم که در سما باشد میں اس لیے آیا ہوں تاکہ علم اور ہدایت کا دروازہ کھولوں اور اہل زمین کو وہ چیزیں دکھاؤں جو آسمان میں ہیں۔اس مقام تک ہم نے قرآنِ کریم کی سند سے پیش کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ صدق کو اول: اپنی ذات عزّ و جلّ دوم۔رسول اکرم (فِداهُ أَبِى وَ اُمّی ) صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام کے لیے سوم۔قرآن کریم کے لیے اختیار فرمایا ہے اور چہارم۔تمام مومنوں کو صدیق کے لقب سے نوازا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِةٍ أُولَبِكَ هُمُ الصَّدِيقُونَ (الحديد: 20) حضرت اقدس اس آیت کے ترجمہ میں فرماتے ہیں ”جو لوگ خدا اور اُس کے رسول پر ایمان لائے وہی ہیں دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) جو خدا کے نزدیک صدیق ہیں۔“ در اصل نور اور صدق کے الفاظ کو قرآن کریم اور حضرت اقدس نے ہم معنی علامت کے طور پر اختیار کیا ہے۔کیونکہ صدق کامل ہی کا نام نور ہے اور الہی تجلیات نورہی ہوتی ہیں۔تاہم صدق کے لفظ میں ایک اشارہ دلیری اور وفا اور استقامت کی طرف بھی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ فَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (الاحزاب : 24) حضرت اقدس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "خدا کے مُرسلین اور مامورین کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے بلکہ سچے مومن بھی بر دل نہیں ہوتے۔بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔صحابہ رضی اللہ نھم پر مصیبتوں نے بار بار حملے کیے مگر انہوں نے کبھی بُزدلی نہیں دکھائی۔خدا تعالیٰ اُن کی نسبت فرماتا ہے فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا یعنی جس ایمان پر انہوں نے کمر ہمت باندھی تھی اس کو بعض نے تو نبھا دیا اور بعض منتظر ہیں کہ کب موقع ملے اور سر خرو ہوں اور