ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page xviii
xix ادب المسيح فاتبعوني يحببكم الله۔اور پھر جب یہ محبت اللہ کے حضور قبولیت کا درجہ پاتی ہے تو آسمان سے آواز آتی ہے۔هذا رجل يحب رسول الله اور پھر آپ کو وہ مقام مل جاتا ہے جو اپنے آقا و مطاع کی غلامی میں سب سے بڑا مقام ہے اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ آپ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ اولادِى ( تذکرہ - صفحہ 325) اللہ اللہ کیا پیار کا اظہار ہے اس زمین و آسمان کے خالق و مالک کا آپ سے، جس کا اظہار آپ خود بھی یوں فرماتے ہیں گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار پس جو شخص عشق خدا اور عشق رسول میں مخمور ہو اور جس نے بمنزلة اولادی کارتبہ پایا ہو۔اس کا مقابلہ وادیوں میں بھٹکنے والے کیا کریں گے چاہے جتنا بھی صوفیانہ رنگ رکھتے ہوں۔آپ نے خود بھی یہ موازنہ کرتے ہوئے بالکل صحیح لکھا ہے۔مواز نہ تو صرف ہر سطح پر آپ کی برتری ثابت کرنے کے لئے ہے۔آپ کی شعر و شاعری کا بھی ایک مقصد ہے اور وہ آپ نے خود اس طرح بیان فرما دیا ہے کہ کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے پس بات وہی ہے کہ ہر ہر لفظ میں توحید کا قیام عشق رسول اور اللہ تعالیٰ کی دنیا پر برتری ثابت کرنا۔اللہ تعالیٰ کے آگے جھکانا اور رسول کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہی آپ کی نظم ونثر کا مقصد تھا اور اسی وجہ سے اللہ تعالی نے آپ سے تمام دنیا کو یہ پیغام دینے کا اعلان کروایا کہ میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نور خدا جس سے ہوا دن آشکار اور پھر وہی بات کہ یہ پانی اللہ اور اس کے رسول کے عشق میں مخمور ہونے کی وجہ سے آپ کی ذات کی شکل میں اتارا گیا اور یہاں سے پھر ادب سے بہت آگے جا کر عشق و محبت کے اسلوب شروع ہو جاتے ہیں جس کی آخری منزل تو حید باری تعالیٰ کا قیام ہے۔آپ کے آقا ومطاع فرماتے ہیں لا أحصي ثناء عليك انت كما أثنيت على نفسك میں تیری ثناء کا حق ادا نہیں کر سکتا۔تیری ثناء وہی ہے جو تو نے خود کی۔