ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 155 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 155

155 ادب المسيح چنانچہ حضرت اقدس نے اول قدم پر ” نور“ کا لفظ خدا تعالیٰ کی ہستی کے لیے اختیار کیا اور پھر اس ہستی سے جو انوار کا دریا نکلا ہے اس میں اول نام اور اشارہ ہمارے پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کے سردار اور دیگر تمام انبیاء کا ہے اور پھر قرآن کریم کے عرفان کے دریا کا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: قَدْ جَاءَ كُمْ مِنَ اللهِ نُورُ وكِتب مُّبِينٌ (المائدة: 16) اور فرمایا: وَدَاعِيَّا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيرا (الاحزاب : 47) حضرت اقدس نُورٌ وَّ كِتَابٌ مُّبِين “ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ظلمانی زمانے کے تدارک کے لیے خدائے تعالیٰ کی طرف سے نور آتا ہے وہ نور اس کا رسول اور اُس کی کتاب ہے۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت المائدة :16) اور سراجا منیرا کی تفسیر میں فرماتے ہیں: انبیاءسلسلہ متفاوتہ فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو کثرت اور کمال سے ٹور باطنی عطا ہوا ہے۔دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت الاحزاب : 47) قرآن کریم کے فرمودات ہی کے اتباع میں حضرت اقدس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فرماتے ہیں: وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نو رسا را نام اُس کا ہے مُحَمَّدٌ دلبر مرا یہی ہے سب پاک ہیں پیمبراک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے پہلوں سے خوب تر ہے خوبی میں اک قمر ہے اس پر ہر اک نظر ہے۔بدر الدجی یہی ہے وہ آج شاہ دیں ہے وہ تاج مُرسلیں ہے وہ طیب وامیں ہے اُس کی ثناء یہی ہے اُس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے