ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 151
151 ادب المسيح حضرت اقدس کے ادب کے علائم ورموز قبل میں بہت اختصار سے عرض کیا گیا تھا کہ لفظ کے دو معانی کیسے جاسکتے ہیں۔ایک وضعی یا حقیقی اور ایک مجازی یعنی غیر حقیقی۔اگر بہت اختصار سے اس امر کی وضاحت کی جائے تو وہ ایسے ہے کہ ”لفظ کے وہ معانی بھی کیسے جاسکتے ہیں جن کے لیے وہ اول مقام پر وضع کیا گیا ہے اور اُن معانی میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جن کے لیے وہ حقیقی طور پر بنایا نہیں گیا، ان معنوں کو مجازی معانی کہتے ہیں۔لفظ کا یہ مفہوم در اصل علامتی مفہوم ہے۔گویا کہ ” مجاز لفظ کے معانی میں تجاوز کا نام ہے۔یہ بھی کہا گیا تھا کہ شعری ادب کی دنیا میں لفظ کی دلالتوں اور معانی کو وسعت دینے کے لیے شعر میں اکثر و بیشتر لفظ کو مجازی یا معانی مستعار کے اظہار کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔اس عمل کو ادبی انتقاد میں شعر کے علائم اور رموز کہتے ہیں۔” رموز رمز کی جمع ہے جو کہ پوشیدہ اشارے اور کنائے سے تعبیر ہے اور علائم علامت کی جمع ہے جس سے ادب میں معانی مستعار مراد ہوتے ہیں۔لفظ کی اس دورنگی کو غالب نے بہت ہی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام چلتا نہیں ہے دشنہ وشجر کہے بغیر ہر چند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر یعنی محبوب کے ناز و ادا سے جو کیفیت دل کی ہوتی ہے اس کو تیر اور خنجر لگنے کی کیفیت کے سوا کیسے بیان کیا جاسکتا ہے اور جب سالک راہ کو وصال باری تعالی بیان کرنا مقصود ہوتا ہے تو وہ اس وجدانی کیفیت کو اس طور ہی سے کہے گا کہ محبوب حقیقی نے مجھے جام وصال پلا کر مد ہوش کر دیا ہے۔حضرت اقدس نے بھی اس شعری ضرورت کی پاسداری کرتے ہوئے ”لفظ کے مجازی معانی کو اختیار فرمایا ہے۔کس قدر خوبصورت فرمان ہے۔احمد آخر زمان نام من است آخریں جامے ہمیں جام من است ترجمہ: احمد آخر زمان میرا نام ہے ( اور بادۂ معرفت کا ) آخری جام میرا ہی جام ہے۔