ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 134 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 134

المسيح 134 کیا دکھ دیے جانے سے میں اپنے رب کے کام کو چھوڑ دوں گا؟ جبکہ میرے جیسا آدمی ایذا دیے جانے کی پروا نہیں کیا کرتا وَكَيْفَ أَخَافُ تَهْدِيدَ الْخُنَاثِي وَقَدْ أُعْطِيتُ حَالَاتِ الرِّجَالِ میں مختشوں کی دھمکی سے کیسے ڈرسکتا ہوں جبکہ مجھے مردوں کے حالات مردانگی دیے گئے ہیں اَلَا إِنِّي أُقَاوِمُ كُلَّ سَهُـ وَاقْلِي الاِكْتِنَانَ عَنِ النِّبَالِ آگاہ رہو کہ میں ہر تیر کا سامنا کر سکتا ہوں اور میں تیروں کے خوف سے مورچہ بند ہونے کو پسند نہیں کرتا مشاہدہ کریں کہ مضمون ابلاغ رسالت کا ہے مگر اسلوب مبارزت کا ہے۔خدا تعالیٰ کا فرمان اور حکم ہے اور مقابلہ براہین اور دعا اور تائید الہی سے ہے مگر حکم الہی کی بجا آوری کے اظہار میں دلیر شاہ سوار ہیں اور دعا کے اظہار میں تیر ہیں اور حکم خداوندی کی بجا آوری میں تلوار بت شکن ہیں۔اور شجاعت اور دلیری ایسی ہے کہ مبارزت اور مقابلہ کی دعوت عام ہے۔اختصار کے پیش نظر جاہلیہ کے متعدد شعراء سے صرف دو شاعروں کی مثال دی ہے اور ان کے مقابل پر حضرت اقدس کے اشعار پیش کیے ہیں۔مقصد صرف یہ ہے کہ اسلوب ادب جاہلیہ اور حضرت کے طرز بیان کا اتحاد و یک رنگی واضح ہو جائے۔وگر نہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت اقدس کا اسلوب بیان دراصل معلقات کے قصائد تخلیق کرنے والے اساتذہ ادب سے صرف مطابقت ہی نہیں رکھتا بلکہ بہت مقامات میں حضور نے ان کے اشعار کے جملے اور ان کے طرز بیان کو اختیار فرمایا ہے۔جیسا کہ کہا گیا ہے کہ خالص عربی زبان کا مولد ومسکن جزیرۂ عرب تھا۔اور ملک عرب میں اس زبان کا مکتب لسانی وہی مکہ مکرمہ تھا جہاں پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس زبان کی الہامی تائید کیساتھ تہذیب و تعدیل کی اور نتیجہ حقیقی فصیح زبان عربی قریش کی زبان مانی گئی۔اسی لسانی عظمت کے تحت اقوام عرب کا یہ دستور تھا کہ جب تک کوئی شاعر مکہ جا کر قبیلہ قریش سے اپنے کلام کی دادن حاصل نہیں کرتا تھا۔اس وقت تک اس کا کلام مستند اور مقبول نہیں ہوتا تھا۔اسی دستور کے مطابق قریش اُدبا کی نظر میں جو قصیدہ ان کے معیار فصاحت و بلاغت کے مطابق ہوتا اُس کو خانہ کعبہ میں لٹکا دیا جاتا تھا۔چنانچہ اشعار جاہلیہ میں سات قصائد ایسے منتخب ہوئے تھے اور ان کو خانہ کعبہ کی دیواروں پر آویزاں کر دیا گیا تھا۔تا کہ یہ اعلان عام ہو کہ یہ عربی ادب کی شاہکا را مثال ہیں۔ان قصائد میں جن کو صف اول کا شاہکار کلام کہا جا سکتا ہے وہ لبید بن ربیعہ کی شعر نبی اور ذوق سلیم کے مطابق اول امراؤ القیس اور دوم طرفہ اور سوم لبید کا اپنا قصیدہ ہے۔جیسا کہ بیان ہوا ہے۔ادب جاہلیہ عربی زبان کا ایسا ارتقا علوی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اسی