ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 118 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 118

ب المسيح 118 حالیا مصلحت وقت دران می بینم ترجمہ: ابھی میں اس میں مصلحت وقت سمجھتا ہوں۔( تذکرہ صفحہ 212۔مطبوعہ 2004ء) مکمل شعر اس طور سے ہے اور یقیناً حضرت کو اس کا علم ہوگا۔حالیا مصلحت وقت دراں می بینم که کشم رخت به میخانه وخوش بنیشم ترجمہ: فی الحال مصلحت وقت اسی میں ہے کہ اپنا سامان میخانہ میں لے جاؤں اور آرام کروں۔یعنی خدا کا ارادہ یہی ہے کہ مخالفین کی سخت زبانی سے صرف نظر کرتے ہوئے اللہ کی محبت میں محو ہو جاؤ۔دل آزاری کے موقع پر اس طور سے سکینت نازل فرمانا ایک دل فریب انداز تربیت ہے یعنی یہ کہ جب میں تمہیں اپنی محبت کے جام پلا رہا ہوں تو دنیا کی سخت کلامی کا کیا غم ہے۔ادبی اعتبار سے صاحب نظر ہی ایسی برمحل بات کہہ سکتا ہے اور ایک صاحب نظر ہی اس کا صحیح لطف اُٹھا سکتا ہے۔اور محبوب حقیقی اور محبت صادق سے بڑھ کر اور کون صاحب نظر ہو سکتا ہے۔ایک اور مثال بھی سُن لیں۔حضرت اقدس کو آپ کے وصال کی خبر دینے کیلئے اللہ تعالیٰ نے سعدی کا شعر انتخاب کیا مباش ایمن از بازی روزگار مکن تکیه بر عمر نا پائیدار ( تذکرہ صفحہ 640 مطبوعہ 2004ء) ترجمہ : زمانے کے کھیل سے بے خوف نہ رہو۔نا پائیدار عمر پر بھروسہ نہ کرو۔اس شعر کا دوسرا مصرع تو وفات سے چند روز قبل الہام ہوا تھا۔یہاں پر بھی بے انتہا محبت اور ادبی شان کے ساتھ آپ کو سفر آخرت کی خبر دی ہے۔گذشتہ میں قصیدہ کے عنوان کے تحت سعدی اور حافظ کے قصائد سے حضرت کے قصائد کا موازنہ کر کے ہم یہ حقیقت واضح کر چکے ہیں کہ آپ حضرت کا اسلوب شعر ان دونوں اساتذ ہ شعر فارسی کے اسلوب سے صرف قریب ہی نہیں بلکہ محاسنِ کلام کے اعتبار سے ان سے اعلیٰ اور ا رفع ہے۔اس لئے اگر اسلوب شعری کی بات ہوگی یہ کہنا درست ہوگا کہ آپ حضرت کا اسلوب شعر خصوصا قصائد اور غزل میں ان دو عظیم المرتبت شاعروں کے ہم پلہ ہے۔البتہ ابیات اور مثنوی میں آپ حضرت کا طرز بیان مولانا رومی کے اسلوب پر ہے اور یہی تین سخن ور آپ حضرت کے دل پسند شاعر بھی ہیں۔