ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 115 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 115

115 ادب المسيح بروئے یار کہ ہرگز نہ رتبتے خواہم مگر اعانت اسلام مدعا باشد خدا کی قسم میں ہرگز کوئی عزت اور مرتبہ نہیں چاہتا میرا مطلب تو صرف تائید اسلام ہے سیاه باد رخ بخت من اگر به دلم دگر غرض بجز از یار آشنا باشد میری قسمت کا منہ کالا ہو اگر میرے دل میں سوائے خدا کے اور کوئی غرض ہو ره خلاص کجا باشد آن سیه دل را آں کہ با چنیں دل من در پئے جفا باشد اُس سیاہ دل انسان کو نجات کیونکر مل سکتی ہے جو میرے جیسے دل والے پر ظلم کرنے کے درپے ہو اور فرماتے ہیں چوسیل دیده ما هیچ سیل و طوفاں نیست بترس زیں کہ چنیں سیل پیش پا باشد ہماری آنکھ کے سیلاب کی طرح کا اور کوئی سیلاب نہیں اس بات سے ڈر کہ کہیں یہ سیلاب تیرے سامنے ہی نہ ہو ز آه زمرة ابدال بایدت ترسید على الخصوص اگر آو میرزا باشد تجھے ابدالوں کی جماعت کی آہوں سے ڈرنا چاہیئے۔خصوصا اگر مرزا (غلام احمد ) کی آہ ہو