ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 105 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 105

105 ادب المسيح نامه بر قیمش آه عزیزاں پیدا نامه در شکنش خون شهیدان مضمر ایسا عریضہ جس کی تحریر سے عزیزوں کی آہیں ظاہر ہیں اور جس کی شکن میں شہیدوں کا خون مضمر ہے اور خاقانی کا قصیدہ جو خرابہ مدائن" کے عنوان سے مشہور ہے اور جو اس نے شاہان ایران کے محلات کی تباہی اور ان کے کھنڈرات کو دیکھ کر لکھا تھاوہ بھی فارسی ادب کا شاہکار ہے اس کے ابتدائی بند یہ ہیں۔ہاں ای دل عبرت بین از دیدہ نظر کن ہاں ایوان مدائن را آئینه عبرت داں ہاں اے دل عبرت والی آنکھوں سے دیکھ اور مدائن کے محل کو عبرت کا آئینہ جان۔یک ره ز ره دجله منزل بمدائن کن از دیده دوم دجله برخاک مدائن راں ذرا دریائے دجلہ کی راہ سے مدائن میں گزر اور آنکھوں سے ایک دوسرا د جلہ مدائن کی خاک پر بہا۔خود دجلہ چناں گرید صد دجله خون گوئی کز گرمی خونابش آتش چکد از مژگاں خود دجلہ مدائن کی ویرانی پر خون کے سینکڑوں دریا بہاتا ہے۔گویا اشک خون کی گرمی سے اس کی پلکوں سے آگ برستی ہے۔جیسا کہ گذشتہ شعر میں بیان ہوا ہے کہ قصیدہ میں انوری کی پیغمبرانہ شان ہے۔میں نے اس کو وسیع کر کے خاقانی کو بھی شامل کر لیا ہے کیونکہ فارسی قصیدہ میں یہ دونوں اوّل مقام کے فنکار ہیں اور ان کا ذکر صرف اس لئے کیا گیا ہے کہ حضرت اقدس کے فارسی قصائد کے نمونے پیش کرنے سے قبل فارسی قصیدہ کے اسالیب ادب کا کچھ تعارف ہو جائے اور یہ بھی واضح ہو جائے کہ قصیدہ کی صنف صرف مدح وستائش کے بیان میں محدود نہیں۔دیگر موضوعات بھی اس کے دائرہ پہن میں آتے ہیں۔قبل میں جو اساتذہ کے نمونے پیش کئے گئے ہیں وہ وطن کی محبت کے جذبات کے اظہار میں ہیں۔حضرت اقدس کے قصائد کے موضوعات خالصتا محبت الہی اور دین اسلام کی صداقت اور مسلمانوں کی دین کی طرف سے غفلت کے بیان میں ہیں جیسا کہ فرماتے ہیں۔بتاج وتخت زمیں آرزو نے دارم نہ شوق افسر شاہی بدل مرا باشد میں کسی زمینی تاج و تخت کی خواہش نہیں رکھتا نہ میرے دل میں کسی بادشاہی تاج کا شوق ہے مرا بس است که ملک سما بدست آید که ملک و ملک زمین را بقا کجا باشد میرے لیے یہی کافی ہے کہ آسمانی بادشاہت ہاتھ آ جائے کیونکہ زمینی ملکوں اور جائدادوں کو بقا نہیں ہے