ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 84
ب المسيح 84 صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار پشتی دیوار دیں اور مامنِ اسلام ہوں نارسا ہے دست دشمن تا بفرق ایں جدار منصب رسالت اور تائید الہی کا ایک اور بیان بھی مشاہدہ کریں: ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار نسل انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے دن دیکھا نہیں کوئی بھی یار غمگسار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہوکر پا گیا درگہ میں بار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات وکرم جن کا مشکل ہے کہ تاروزِ قیامت ہو شمار آسماں میرے لیے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لیے تاریک دتار تو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کیلیے تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار ہو گئے بیکا رسب حیلے جب آئی وہ بلا ساری تدبیروں کا خاکہ اُڑ گیا مثل مخبار ابلاغ رسالت بشیر و نذیر بن کر انبیاء اور مرسلین خدا تعالیٰ سے دو ہی منصب لے کر آتے ہیں۔اوّل مقام پر وہ خدا کے پیغام کو ماننے والوں کو بشارت دیتے ہیں اور دوسرے قدم پر خدا کے پیغام کو قبول نہ کرنے والوں کو خدا کے مواخذہ اور پکڑ سے خوف دلاتے ہیں۔جیسے قرآن نے فرمایا إِنَّا أَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا (البقرة: 120) جیسے حضرت کا الہام ہے۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا تذکرہ صفحہ 81۔مطبوعہ 2004ء) اور بشیر ہونے کا الہام ہے۔وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ اور تو ان لوگوں کو جو ایمان لائے یہ خوش خبری سُنا کہ ان کا قدم خدا کے نزدیک صدق کا قدم ہے۔تذکرہ صفحہ 197۔مطبوعہ 2004ء)