ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 77
77 ادب المسيح ہوتا ہے وہ اس کا جو اس کا ہی ہو گیا ہے اُسکی گود میں جو گرا اُس جناب میں فرماتے ہیں: گر عاشقوں کی روح نہیں اسکے ہاتھ سے پھر غیر کیلئے ہیں وہ کیوں اضطراب میں یعنی اگر عاشق کو محبوب سے کوئی تخلیقی اور قلبی مناسبت نہیں تو محبوب حقیقی کے وصال کیلئے کیوں مضطرب۔فرماتے ہیں کہ بغیر کسی خالق کے مخلوق خود بخود کیسے ہوسکتی ہے۔اس لئے ایسے غیر معقول عقیدہ کے دن تھوڑے ہے اُن کو سو دا ہوا ہے ویدوں کا اُن کا دِل مبتلا ہے ویدوں کا آریو! اس قدر کرو کیوں جوش کیا نظر آ گیا ہے ویدوں کا ؟ نہ رکیا ہے نہ کر سکے پیدا سوچ لو یہ خُدا ہے ویدوں کا عقل رکھتے ہو آپ بھی سوچو کیوں بھروسہ کیا ہے ویدوں کا؟ بے خدا کوئی چیز کیونکر ہو یہ سراسر خطا ہے ویدوں کا ایسے مذہب کبھی نہیں چلتے کال سر پر کھڑا ہے ویدوں کا اس مضمون میں مزید تفصیلی بیان بھی سُن لیں۔بھلاتم خود کہو انصاف سے صاف کہ ایشر کے یہی لائق ہیں اوصاف کہ کر سکتا نہیں اک جاں کو پیدا نہ اک ذرہ ہوا اس سے ہویدا نہ اُن بن چل سکے اس کی خُدائی نہ اُن بن کر سکے زور آزمائی نظر سے اس کے ہوں مجوب ومكتوم نہ ہو تعداد تک بھی اس کو معلوم معاذ اللہ ! یہ سب باطل گماں ہے وہ خودا یشر نہیں جو نا تواں ہے اگر بُھولے رہے اس سے کوئی جاں تو پھر ہو جاوے اس کا ملک ویراں پیار و ! یہ روا ہر گز نہیں ہے خُدا وہ ہے جورب العالمیں ہے