ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 73 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 73

73 ادب المسيح آپ حضرت کا عقیدہ اور دعاوی آپ حضرت اپنے عقائد کے بیان میں فرماتے ہیں: مومنوں پر کفر کا کرنا گماں ہے یہ کیا ایمانداروں کا نشاں ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دل سے ہیں خدام ختم المرسلین شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں خاک راہ احمد مختار ہیں سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے جان و دل اس راہ پر قربان ہے دے چکے دل اب تنِ خا کی رہا ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا تم ہمیں دیتے ہو کا فر کا خطاب کیوں نہیں لو گو تمہیں خوف عقاب دیکھ لیں کہ کس قدر جامع اور خوبصورت بیان ہے کمال وضاحت بھی ہے اور کمال ایجاز بھی۔بیان میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار ہے۔رسول اکرم پر ایمان خاتم النبیین کے طور پر ہے۔قرآن کے تمام احکام پر ایمان کا ذکر بھی آگیا اور خدا اور رسول پر قربان ہونے کا منشاء باری تعالیٰ آ گیا اور یہ بات بھی ہوگئی کہ ایسے مومن کا کافر کہنا خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوتا ہے۔اس قدر وسیع مضمون کو چند اشعار میں بیان کرنا ادب میں ایجاز“ کہلاتا ہے اور یہ ایجاز کا کمال ہے۔آپ حضرت کے بنیادی دعاوی آپ حضرت کے بنیادی دعاوی مجد داسلام۔مہدی آخر زمان اور مسیح دور ان کے ہیں۔اول کے بارے میں فرماتے ہیں آسماں ہو پر غافلو اک جوش ہے کچھ تو دیکھو گر تمہیں کچھ ہوش ہے گیا دیں کفر کے حملوں سے چور چُپ رہے کب تک خداوند غیور اس صدی کا بیسواں اب سال ہے شرک و بدعت سے جہاں پامال ہے بدگماں کیوں ہو خُدا کچھ یاد ہے افترا کی کب تلک بنیاد ہے