ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 70
ب المسيح 70 چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمالِ یار کا چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا محبوب حقیقی کی تجلیات کو اس کی خلق کے ہر ذرہ میں دیکھنا ایک روحانی مشاہدہ ہے۔اس مضمون کا بیان حضرت کی زبان سے سنیں۔ایک واقعاتی بیان تو ہے مگر محبت الہی کا جوش اور اس پر قربان ہونے کے شوق کو ملاحظہ کریں۔اس مقابل پر میر درد کا بیان ایک پھیکا اور بے رنگ واقعاتی مشاہدہ ہے اور اظہار عشق و محبت تو بالکل نا پید ہے۔بات سے بات نکل رہی ہے۔عرض یہ کر رہا تھا کہ درد کے کلام میں ایک عجیب اتفاق مشاہدہ کیا ہے کہ حضرت اقدس کی درجہ بالاثناء میں ایک مصرعہ ایسا ہے جو بالکل خفیف تبدیلی کیساتھ درد کا ہے حضور فرماتے ہیں۔اُس بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے اور درد کہتے ہیں۔مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تا تار کا اس کی بہارِحسن کا دل میں ہمارے جوش ہے فصل بہار جس کے ہاں۔ایک میگل فروش ہے وزن اور بحر میں اختلاف ہے۔مگر مصرعہ اول ایک ہی ہے۔توارد ہے یا اختیار دونوں صورتوں میں یہ درد کی خوش بختی ہے اور تعجب خیز بھی۔قریب الاسلوب ادیبوں میں ایسے حادثے ہوتے رہتے ہیں۔یہی بات میں عرض کر رہا تھا کہ حضرت کا اسلوب بیان میر درد سے قریب تر ہے۔اس وقت تک جو بیان ہوا ہے ایسے ہے کہ اول :۔اردو زبان کا اسلوب بیان کیا ہے۔دوم : میر درد کا اردوزبان کے اسلوب کی تعیین میں کیا مقام ہے۔سوم :۔یہ کہ حضرت اقدس کا اسلوب بیان میر درد سے قریب تر ہے۔