ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 409
409 مناجات۔دعا ادب المسيح مناجات کے عنوان میں سب سے اول تو وہ مناجات ہے جو ہمارے آقا سیدی حضرت مسیح موعود نے حضرت منشی احمد جان صاحب کے ہاتھ خانہ کعبہ کے سامنے پڑھ کر سنانے کی ہدایت کی تھی۔گو وہ نظم میں نہیں مگر ایسی ہے کہ اس کا جواب جناب باری تعالیٰ نے نظم یعنی شعر میں دیا تھا اور اس کو محبت سے قبول کیا تھا۔جیسا کہ الہام حضرت اقدس سے ظاہر ہے۔دلم مے بلرزد چو یاد آورم مناجات شوریده اندر حرم میرا دل کانپنے لگتا ہے جب میں یاد کرتا ہوں ایک عاشق کی مناجات کو جو اس نے حرم میں کی تھی تذکرہ صفحہ 341 مطبوعہ 2004ء) ہم اس الہام خداوندی کی برکت کو حاصل کرتے ہوئے اپنے مضمون کو شروع کرتے ہیں اور قارئین سے گذارش کرتے ہیں کہ اس واقعہ کی تفصیل تذکرہ صفحہ 342،341 سے حاصل کریں۔لغوی اعتبار سے مناجات کے معنے یہ ہیں کہ ایسی نظم جس میں خدا تعالیٰ کی تعریف کر کے دعا مانگی جائے۔اس لیے ہم نے اس مضمون کے عنوان کو ہی مناجات و دعا کے ساتھ منسلک کیا ہے تا کہ اس کے معنی کی طرف بھی اشارہ ہو جائے۔حضرت اقدس کی تعلیم وتربیت میں جس امر پر بے انتہا تاکید و تلقین کی گئی ہے وہ باری تعالیٰ کی جناب میں دعا کرنا ہے۔یہاں تک کہ اپنی دعاوی کی صداقت کے بارے میں بھی فرمایا کہ دعا کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے تصدیق حاصل کرو۔فرمایا: عزیزاں مے دہم صد بار سوگند بروئے حضرت داوار سوگند اے دوستو میں تمہیں سینکڑوں قسمیں دیتا ہوں اور جناب الہی کی ذات کی قسمیں دیتا ہوں که در کارم جواب از حق بجوئید به محبوب دل ابرار سوگند کہ میرے معاملہ میں خدا سے ہی جواب مانگو۔میں تمہیں نیکوں کے دلوں کے محبوب کی قسم دیتا ہوں آپ نے دعا کے آداب اور اس کی تا ثیر اور نتائج کے مضمون میں جو تعلیم دی ہے وہ بنیادی طور پر قرآن کریم کے ذیل کے فرمودات کی تفسیر وتعبیر پرمشتمل ہے۔اوّل فرمانِ خداوندی ہے۔