ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 378
المسيح فرماتے ہیں: 378 ہمیں اُس یار سے تقوای عطا ہے نہ یہ ہم سے کہ احسانِ خدا ہے کرو کوشش اگر صدق و صفا ہے یہی آئینہ خالق که به حاصل ہو جو شرط لقا ہے نما ہے یہی اک جوہر سیف دُعا ہے ہر اک نیکی کی جڑ اتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے یہی اک فیر شانِ اولیاء ہے بجز تقویٰ زیادت ان میں کیا ہے ڈرو یارو کہ وہ بینا خدا ہے اگر سوچو، یہی دار الجزاء ہے مجھے تقوی سے اُس نے یہ جزادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ سنو! ہے حاصل اسلام تقویٰ خُدا کا عشق کے اور جام تقویٰ مسلمانو! بناؤ تام تقویٰ کہاں ایماں اگر ہے خام تقویٰ یہ دولت تُو نے مجھ کو اے خُدا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي