ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 20
المسيح از بیر نمائش جمالت ! 20 بینم ہمہ چیز آئینہ دار تیرے جمال کی نمائش کے لیے میں ہر چیز کو آئینہ سمجھتا ہوں ہر برگ صحیفہ ہدایت ہر جوہر و عرض شمع بردار ہر پتا ہدایت کا صحیفہ ہے اور ہر ذات و صفت تجھے دکھانے کے لیے متعلیمی ہر نفس بتو رہے نماید ہر نفس تیرا راستہ دکھاتا ہے ہر جاں بدہد صلائے این کار ہے ہر جان بھی اسی بات کی ہی آواز دیتی ہے ہر ذرہ فشاند از تو نُوری ہر قطره براند از تو انہار ہر ذرہ تیرا نور پھیلاتا ہے۔ہر قطرہ تیری توصیف کی نہریں بہاتا ہے یہاں تک تو ”ادب“ کی تعریف میں ایک ایسی قدر کو بیان کیا گیا ہے جو زمینی اور آسمانی ادب میں قدر مشترک ہے۔مگر ادب میں صرف لفظ ہی حسن پیدا نہیں کرتا بلکہ جن معانی پر لفظ دلالت کر رہا ہوتا ہے وہ بھی ادبی حسن کاری میں برابر کا شریک ہوتا ہے اور اسی اختلاط اور ارتباط ہی سے حسن کی تخلیق ہوتی ہے۔اس لیے جیسا کہ لفظ کی معتین نشست و برخواست کے قیام کے لیے اقدار حسن متعین کی گئی ہیں اسی طور پر معافی کی بلندی اور پستی کو اہم قد راد بی قبول کر کے اس کی نشاندہی میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔اور اصحاب نقد و نظر نے ان دونوں عناصر کے بارے میں تفصیلی مبحث اٹھائے ہیں اور ادب میں ہیئت اور مواد کی تعیین کی کوشش کی ہے۔ان اصولی اقدار ادب کی تفصیل میں ذیلی طور پر اور بھی بہت سی اقدار ادب ہیں جن کا قیام ادب عالیہ کی تخلیق کے لیے از بس ضروری قرار دیا گیا ہے۔ہمیں ان عناصر ادب کی تفصیلی پردہ کشائی کی ضرورت نہیں ہے۔تاہم چند ایک اقدار ادب ایسی ہیں جن کا بیان زیر قلم موضوع سے قریبی تعلق رکھتا ہے۔اول : یہ قبول کیا گیا ہے کہ ادب عالیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ آفاقی مضامین اور مواد کا حامل ہو۔یعنی وہ ہر انسان کی فطرتی اور قلبی جذبات اور تمناؤں کی عکاسی کرے۔دوم : یہ کہ مشاہدات صدق پر مبنی ہوں۔صدق کا عنصر ادبی تخلیق میں جزو اعظم کی حیثیت رکھتا ہے۔حسن کا بیان ہو یا قلبی کیفیات کا اظہار اس میں ادبی حسن و جمال پیدا کرنے کے لیے لازم ہے کہ مشاہدات اور جذبات حقیقت پر مبنی ہوں۔اگر ایسا نہیں تو وہ کلام ایک دیو مالائی افسانہ ہوتا ہے اور قلب و نظر کو سخر نہیں کرتا۔اسی بنیاد پر تیسری ادبی قدر ہے جس کو تاثیر کا نام دیا گیا ہے۔ادب میں تاثیر لفظ و معانی کے حسن و جمال سے پیدا ہوتی ہے۔اور اگر یہ کہا جائے کہ ادب عالیہ کی پہچان اس کی تاثیر ہی پر قائم ہے تو بالکل درست ہوگا۔کیونکہ