ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 352
ب المسيح 352 جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ محبت الہی کا حصول ہی وہ مقصد اعلیٰ ہے جس کے لیے انسان پیدا کیا گیا۔اور جس کو قلب میں زندہ کرنے کے لیے قرآن کریم اور دیگر صحف سماوی نے انسان کی راہ نمائی کی ہے اور اسی طور پر انبیاء نے بھی اپنے پیغام الہی کے ماننے والوں کی ایسی ہی تعلیم وتربیت کی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کرنا پسند فرماتا ہے۔“ اور یا دالہی کی تلقین میں فرماتے ہیں: (بخاری کتاب الذكر) تم اتنی کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرو کہ لوگ تم کو دیوانہ کہنے لگیں“ (حصن حصین) محبت الہی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا کس قدر جامع اور آپ کی زندگی کے تمام لمحات کو اپنے دائرہ میں لیے ہوئے ہے۔اللہ کی جناب میں عرض کرتے ہیں۔رَبِّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَ حُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَ حُبَّ عَمَل ، مَنْ يُحِبُّكَ وَ حُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ وَ قَالَ رَسُولُ اللهِ لا إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا وَ تَعَلَّمُوهَا۔(سنن ترمذی) ترجمہ۔اے اللہ میں تجھ سے تیری محبت کا طلبگار ہوں اور اس کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور اس عمل کی محبت جو میرے دل میں تیری محبت زندہ کر دے اور آپ نے فرمایا یہی حق ہے اور اُسی کی تعلیم و تدریس کیا کرو۔اور پھر حضرت داؤد علیہ السلام کی دعا بھی ہے جو ہمارے پیارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزیز تھی۔عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ علا الله كَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي اَسْاَلُكَ حُبَّكَ وَ حُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَ الْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اللَّهُمَّ اجْعَلُ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَّفْسِى وَاَهْلِى وَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ۔(سنن ترمذی) ترجمہ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ داؤد کی دعاؤں میں سے ایک یہ دعا تھی کہ اے میرے اللہ میں تجھ سے تیری محبت کا طلب گار ہوں اور اسکی محبت کا جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور اس عمل کی محبت جس کی وجہ سے میں تجھ سے محبت کرنے لگوں۔اے اللہ اپنی محبت میرے