ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 339
339 ادب المسيح پیدا کر دیں جن کو خدا تعالیٰ نے بھی قبول فرمایا۔حضرت اقدس صحابہ کے اس منصب کو صرف اطاعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ثمرہ سمجھتے ہیں۔سورۃ ال عمران کی آیت قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران: 32) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: صحابہ نے چلہ کشیاں نہیں کی تھیں اڑہ اور نفی اثبات کے ذکر نہیں کئے تھے بلکہ ان کے پاس ایک اور بھی چیز تھی۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں محو تھے۔جو نور آپ میں تھا وہ اس اطاعت کی نالی میں سے ہو کر صحابہ کے قلب پر گرتا تھا اور ماسوا اللہ کے خیالات کو پاش پاش کرتا جاتا تھا۔تاریکی کے بجائے ان سینوں میں نور بھرا جاتا تھا۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اس نور کو حاصل کرنے پر ہی صحابہ کرام کا یہ منصب ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيْهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ ترجمہ۔میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں۔ان میں سے جس کا بھی اتباع کرو گے ہدایت پاؤ گے۔یہی وہ نو ر تھا جو اصحاب نبی سے مخصوص ہوا اور دین اسلام کی خدمت کرنے والوں کے لئے ضروری ہوا کہ ان کے نمونے اور اسوہ کو اختیار کریں تا اللہ کے نزدیک عزت کا مقام حاصل ہو۔حضرت اقدس فرماتے ہیں: بکوشیداے جواناں تا بدیں قوت شود پیدا بهار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا اے جوانو ! کوشش کرو کہ دین میں قوت پیدا ہو اور ملتِ اسلام کے باغ میں بہار اور رونق آئے اگر یاراں کنوں برغربت اسلام رحم آرید با صحاب نبی نزد خدا نسبت شود پیدا اے دوستو! اگر اب تم اسلام کی غربت پر رحم کرو تو خدا کے ہاں تمہیں آنحضرت کے صحابہ سے مناسبت پیدا ہو جائے نفاق و اختلاف ناشناسان از میاں خیزد کمال اتفاق و خُلت و الفت شود پیدا نا اہل لوگوں کا آپس میں اختلاف اور نفاق دور ہو جائے اور کمال درجہ کا اتفاق دوستی اور محبت پیدا ہو جائے به جنبید از پئے کوشش که از درگاه ربانی زبیر ناصران دین حق نصرت شود پیدا