ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 317 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 317

317 حق کی توحید کا مُرجھا ہی چلا تھا پودا ناگہاں غیب یہ چشمه اصفی نکلا یا الہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا پہلے سمجھے تھے کہ موسی کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چکا ہے کہ صد نیر بیضا نکلا زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دُنیا میں جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اعمی نکلا جلنے سے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا منقبت قرآن میں اس شعر کی عظمت کا مشاہدہ کریں حق کی توحید کا مُرجھا ہی چلا تھا پودا ناگہاں غیب سے چشمه اصفی نکلا ادب المسيح صفت نو رسب سے نمایاں ہے مگر صفت ہدایت کو آپ حضرت نے اسلام کے پودے کی آبیاری کے لئے قرآن کریم کو زندگی اور تر و تازگی بخش مصفی چشمہ کہا ہے۔کس قدر خوبصورت کلام ہے اور اپنے دامن میں ہزار معانی کو سمیٹے ہوئے ہے۔ایک اور مقام پر قرآن کریم کے فضائل کے بیان کیسا تھ دیگر کتب سماوی کا تقابل بھی فرمایا ہے۔