ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 292
ب المسيح 292 اک نشان دکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں دل چلا ہے ہاتھ سے لا جلد ٹھہرانے کے دن اسلام کے غم میں ایک اور مناجات بھی سُن لیں: دن چڑھا ہے دُشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے اے مرے سُورج نکل باہر کہ میں ہوں بیقرار اے مرے پیارے فدا ہو تجھ پہ ہر ذرہ مرا پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی مہار کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور ہے خاک میں ہوگا یہ سر گر تو نہ آیا بن کے یار فضل کے ہاتھوں سے اب اسوقت کر میری مدد کشتی اسلام تا ہو جائے اس طوفاں سے پار میرے سقم و عیب سے اب کیجئے قطع نظر تا نہ خوش ہو دشمنِ دیں جس پہ ہے لعنت کی مار مرے زخموں پر لگا مرہم کہ میں رنجور ہوں میری فریادوں کو سُن میں ہوگیا زار و نزار دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعف دین مصطفے مجھکو کر اے میرے سُلطاں کامیاب و کامگار کیا سلائے گا مجھے تو خاک میں قبل از مُراد یہ تو تیرے پر نہیں اُمید اے میرے حصار یا الہی فضل کر اسلام پر اور خود بچا اس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سُن لے پکار قوم میں فسق و فجور و معصیت کا زور ہے چھا رہا ہے ابر پاس اور رات ہے تاریک و تار ایک عالم مرگیا ہے تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اے میرے مولی اسطرف دریا کی دھار