ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 257
257 ادب المسيح اور یہ فرمان کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيمًا واضح کر رہا ہے کہ ایسا قلبی درود و سلام محبت کے بغیر کیسے نصیب ہو سکتا ہے۔دراصل اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم اور مومنین کے درمیان باپ اور اولاد کا رشتہ قائم فرمایا ہے۔جیسے کہ فرماتا ہے: اَلنَّبِيُّ أولى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجَةَ أَمَّهُتُهُم۔۔۔الى الآخر (الاحزاب : 7) ترجمہ: نبی مومنوں سے ان کی جان کی نسبت بھی زیادہ قریب ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ تم باری تعالیٰ کو ایسی محبت سے یاد کرو ( بلکہ اس سے بھی بڑھ کر) جیسے تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو۔فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (البقرة: 201) حضرت اقدس باپ بیٹے کے رشتہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا یعنی اپنے اللہ عزّ و جلّ کو ایسے دلی جوش محبت سے یاد کرو جیسا باپوں کو یاد کیا جاتا ہے۔یا درکھنا چاہیے کہ مخدوم اُس وقت باپ سے مشابہ ہو جاتا ہے جب محبت میں غایت درجہ شدت واقعہ ہو جاتی ہے اور حُبّ جو ہر یک کدورت اور غرض سے مصفا ہے دل کے تمام پردے چیر کر دل کی جڑھ میں اس طرح سے بیٹھ جاتی ہے کہ گویا اُس کی جز ہے تب جس قدر جوش محبت اور پیوند شدید اپنے محبوب سے ہے وہ سب حقیقت میں مادر زاد معلوم ہوتا ہے اور ایسا طبیعت سے ہمرنگ اور اُس کی جز ہو جاتا ہے کہ سعی اور کوشش کا ذریعہ ہرگز یاد نہیں رہتا اور جیسے بیٹے کو اپنے باپ کا وجود تصور کرنے سے ایک روحانی نسبت محسوس ہوتی ہے ایسا ہی اس کو بھی ہر وقت باطنی طور پر اُس نسبت کا احساس ہوتا رہتا ہے اور جیسے بیٹا اپنے باپ کا حلیہ اور نقوش نمایاں طور پر اپنے چہرہ پر ظاہر رکھتا ہے اور اُس کی رفتار اور کردار اور خو اور بو بصفائی تام اُس میں پائی جاتی ہے علی ہذا القیاس یہی حال اس میں ہوتا ہے۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی تو ہے کہ باپ اور اولا داور تمام انسانوں سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا شرط ایمان ہے۔