ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 249 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 249

249 ادب المسيح فرمایا ہے یہی موضوعات آپ کی نعت کے ہیں۔دوسرے مقام پر اس دنیا میں آپ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام قرب الہی کو تو وہی پیش بیان کرسکتا ہے جو واصل باللہ ہو اور جس کو یہ عرفان خدا تعالیٰ کی وحی اور الہام کے ذریعہ سے حاصل ہوا ہو اور جس کو باری تعالیٰ کی جناب سے نائب اور وارث رسول کا خطاب ملا ہو اور وہ نیابت اور وراثت کے اعتبار سے آپ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری تجلی ہو جیسے کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔یسے انبیاء گرچه بوده اند من بعرفاں نہ کمترم ز کسے اگرچہ انبیاء بہت ہوئے ہیں مگر میں معرفت الہی میں کسی سے کم نہیں ہوں وارث مصطفی شدم به یقیں شدہ رنگیں برنگِ یار حسیں میں یقیناً مصطفے کا وارث ہوں اور اُس حسین محبوب کے رنگ میں رنگین ہوں اور اس عرفان الہی اور اتحاد کامل کی بنا پر سیرت رسول اکرم کا حقیقی علم و شعور ہونا بھی آپ ہی کا منصب ہے جو کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا ہے۔فرماتے ہیں: تا مرا دادند از حسنش خبر شد دلم از عشق او زیر و زبر جب سے مجھے اُس کے حسن کی خبر دی گئی ہے۔میرا دل اُس کے عشق میں بے قرار رہتا ہے منکہ مے بینم رخ آں دلبرے جاں فشانم گر دہد دل دیگرے میں اُس دلبر کا چہرہ دیکھ رہا ہوں۔اگر کوئی اُسے دل دے تو میں اُس کے مقابلہ پر جان نثار کر دوں ساقی من ہست آں جاں پرورے ہر زماں مستم کند از ساغری وہی روح پرور شخص تو میرا ساتی ہے جو ہمیشہ جام شراب سے مجھے سرشار رکھتا ہے محو روئے او شد است اس روئے من ہوئے او آید ز بام و گوئے من یہ میرا چہرہ اُس کے چہرہ میں محو اور گم ہو گیا اور میرے مکان اور کوچہ سے اُسی کی خوشبو آرہی ہے بسکه من در عشق او هستم نہاں من ہمانم۔من ہمانم۔من ہماں از بسکہ میں اُس کے عشق میں غایب ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں جان من از جان او یا بد غذا از گریبانم عیاں شد آں ذکا! میری روح اُس کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گر یہاں سے وہی سورج نکل آیا ہے احمد اندر جان احمد شد اسم من گردید آں اسم وحید پدید