ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 245 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 245

245 ادب المسيح اسی طور سے آپ کی نعت پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار کے عنوان سے ہے جس میں بیان ہے کہ ضلالت اور تاریکی کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا سورج طلوع ہوتا ہے تو انسانیت کا ہر طبقہ اس سے رکس طور پر فیض پاتا ہے ایک عظیم الشان نعت ہے خاص طور پر جہاں عورت‘‘ مخاطب ہے۔الغرض نعت مناجات دین اسلام اور حضرت مسیح موعود کی محبت میں جس قدر بھی موضوعات ہیں سب اردو ادب کے شاہکار ہیں آپ کے کلام کا مجموعہ در عدن“ کے نام سے اشاعت پاچکا ہے جو یقیناً اس قابل ہے کہ احمدی بچے اور جوان اس کو حفظ کریں اور اپنے سینوں میں محفوظ کر لیں۔ان چند الفاظ میں آپ سیدہ کے کلام کے محاسن پیش کرنے کے بعد ہم اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔اور قطعہ کی صنف میں سعد کی علیہ الرحمہ کا مشہور عالم اور امت میں بہت مقبول قطعہ پیش کرتے ہیں:۔بلغ الـعــلــى بـكـمـالـه كشف الــدجـــي بـجـمــالــه آپ کو بلندی میں کمال حاصل تھا۔آپ کے حُسن نے تاریکیوں میں اجالا کردیا سُنَتْ جَمِيعُ خصاله صلو عليه و آله آپ کے تمام خصائل حسین تھے۔اس پر اور اس کی آل پر درود بھیجو قطعات میں حضرت اقدس کو یہ نعتیہ قطع بہت پسند تھا فرمایا: پس ہم نے ایک ایسے نبی کا دامن پکڑا ہے جو خدا نما ہے۔کسی نے یہ شعر بہت ہی اچھا کہا ہے۔محمد عربی بادشاہ ہر دوسرا کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی اُسے خدا تو نہیں کہہ سکیں پہ کہتا ہوں کہ اُس کی مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 302) قطعات میں مرثیہ بیان کرنے کا حقیقی منصب تو حضرت حسان بن ثابت کے نصیب میں آیا۔فرماتے ہیں كنت السواد لـنــاظـرى فعمی علیک الناظر آپ میری آنکھ کی پہلی تھے۔آپ کی وفات پر میری آنکھ اندھی ہوگئی من شاء بعدک فلیمت فعلیک کـــنــــت احــــاذر آپ کے بعد جو چاہے وفات پائے۔مجھے تو آپ کی وفات کا خطرہ تھا