ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 211 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 211

211 ادب المسيح صفات ہیں جیسا کہ قرآن شریف نے فرمایا ہے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ یعنی خدا اپنی ذات اور صفات اور جلال میں ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں سب اس کے حاجت مند ہیں۔ذرہ ذرہ اسی سے زندگی پاتا ہے۔وہ گل چیزوں کے لئے مبداء فیض ہے اور آپ کسی سے فیض یاب نہیں۔وہ نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کسی کا باپ۔اور کیونکر ہو کہ اس کا کوئی ہم ذات نہیں۔قرآن نے بار بار خدا کا کمال پیش کر کے اور اس کی عظمت دکھلا کے لوگوں کو توجہ دلائی ہے کہ دیکھو ایسا خدا دلوں کو مرغوب ہے نہ کہ مردہ اور کمزور اور کم رحم اور کم قدرت۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ایک اور مقام پر اس سورۃ کی نہایت درجہ عارفانہ تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔قرآن کریم کی صاف تعلیم یہ ہے کہ وہ خداوند وحید وحمید جو بالذات تو حید کو چاہتا ہے اُس نے اپنی مخلوق کو متشارک الصفات رکھا ہے اور بعض کو بعض کا مثیل اور شبیہ قراردیا ہے تا کسی فردِ خاص کی کوئی خصوصیت جو ذات و افعال و اقوال اور صفات کے متعلق ہے اس دھوکہ میں نہ ڈالے کہ وہ فرد خاص اپنی بنی نوع سے بڑھ کر ایک ایسی خاصیت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص نہ اصلاً و نہ ظلاً اس کا شریک نہیں اور خدا تعالیٰ کی طرح کسی اپنی صفت میں واحد لاشریک ہے چنانچہ قرآن کریم میں سورۃ اخلاص اسی بھید کو بیان کر رہی ہے کہ احدیت ذات وصفات خدا تعالیٰ کا خاصہ ہے۔دیکھو اللہ جل شانہ فرماتا ہے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ثناء باری تعالیٰ کے مضمون میں اللہ تعالیٰ کے اسم ذات کے حوالہ سے قرآن کریم کے بیان فرمودہ دواہم نمونے پیش کرنے کے بعد ہم ان فرمودات کو پیش کریں گے جہاں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے اسماء صفاتی میں اپنی عظمت وشان اور حسن و جمال پیش کیا ہے۔چنانچہ ہم گذشتہ میں باری تعالیٰ کے اسم ذات اللہ کے عنوان میں عرض کر چکے ہیں کہ اللہ کا اسم گرامی قرآن کریم میں کئی ہزار مرتبہ بیان ہوا ہے۔اُس طور سے اگر باری تعالیٰ کے اسماء صفاتی کو شمار کرنے لگیں تو اس تعداد میں ہیں کہ اگر ان کو بے حد وشمار کہا جائے تو درست ہوگا۔شاید ہی کوئی آیت قرآنیہ ایسی ہوگی جس کے اول آخر میں کسی صفاتی اسم باری تعالیٰ کا ذکر نہ ہو اور اکثر آیات تو ایسی ہیں جنھوں نے کئی صفات باری تعالیٰ کو اپنے دامن میں سمیٹ رکھا ہے۔اس حقیقت کے پیش نظر ہم نے قرآن کریم کے اسماء صفاتی کے بیان میں بھی صرف دو فرمودات قرآن کو اختیار کیا ہے۔