ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 202
202 المسيح فأَما فَيهِ إِلى أَحمدَين وَجَعَلَهُمَا مِن نُعَمَائِهِ الكَاثِرَةِ۔فَالاَوَّلُ مِنْهُمَا أَحْمَدُن المُصطَفى وَرَسُولُنَا المُجتَبى وَ الثَّانِى اَحمد اخِرِ الزَّمَانِ الَّذِي سُمِّيَ مَسِيحًا وَ مَهْدِيَّا مِّنَ اللهِ المَنَّان۔وَقَد استنبطَتْ هذِهِ التُكتَةُ مِن قَولِهِ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔فَلْيَتَدَبَّرُ مَنْ كَانَ مِنَ الْمُتَدَبِّرِينَ ( ترجمہ از مرتب) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دو احمدوں کا ذکر فرما کر ہر دو کو اپنی بے پایاں نعمتوں میں شمار کیا ہے۔ان میں سے پہلے احمد تو ہمارے نبی احمد مصطفے اور رسول مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دوسرا احمد احمد آخر الزمان ہے جس کا نام محسن خدا کی طرف سے مسیح اور مہدی بھی رکھا گیا ہے۔یہ نکتہ میں نے خدا تعالیٰ کے قول الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے اخذ کیا ہے۔پس ہر غور وفکر کرنے والے کو غور کرنا چاہیئے۔اس مضمون کی مزید وضاحت میں فرماتے ہیں: (اعجاز مسیح ، ر خ جلد 18 صفحہ 139) فَحَاصِلُ هَذَا الْبَيَانِ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ أَحْمَدَيْنِ فِي صَدْرِ الْإِسْلَامِ وَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ۔وَأَشَارَ إِلَيْهِمَا بِتَكْرَارِ لَفْظِ الْحَمْدِ فِى اَوَّلِ الْفَاتِحَةِ وَ فِي آخِرِهَا لِاَهْلِ الْعِرْفَانِ وَ فَعَلَ كَذَالِكَ لِيَرُدَّ عَلَى النَّصْرَانِيِّينَ۔وَاَنْزَلَ أَحْمَدَيْنِ مِنَ السَّمَاءِ لِيَكُونَا كَالْجِدَارَيْنِ لِحِمَايَةِ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ۔( ترجمه از مرتب ) پس خلاصہ بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دواحمد پیدا کئے ایک اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اور ایک آخری زمانہ میں۔اور اللہ تعالیٰ نے اہل عرفان کے لئے سورۃ فاتحہ کے شروع میں اور اس کے آخر میں الحمد کا لفظاً ومعنا تکرار کر کے ان دونوں (احمدوں) کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور خدا نے ایسا عیسائیوں کی تردید کے لئے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے دو احمد آسمان سےاُتارے تا وہ دونوں پہلوں اور پچھلوں کی حمایت کے لئے دود یواروں کی طرح ہو جائیں۔(اعجاز امسح ، رخ جلد 18 صفحہ 198) اس مضمون کو حضرت اقدس نے ایک نہایت درجہ حسین اور جاں فزا نظم میں بیان کیا ہے۔دونوں احمد وں کا ذکر بھی ہے اور عیسائیوں سے خطاب بھی ہے کہ انہوں نے خدائے واحد کی عظمت وشان کو بھلا کر وہ منصب ابن مریم کو دے دیا ہے فرماتے ہیں۔زندگی بخش جامِ احمد ہے کیا ہی پیارا یہ نام احمد ہے