ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 192 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 192

المسيح 192 اے تو مرہم بخش جان ریش ما اے تو دلدار دل غم کیش ما تو ہماری زخمی جان پر مرہم رکھنے والا ہے۔تو ہمارے غمزدہ دل کی دلداری کرنے والا ہے راس تسلسل بیان میں ایک عظیم الشان نعت رسول بیان کرتے ہیں۔فرماتے ہیں: آں شہ عالم که نامش مصطفے سید عشاق حق شمس الضح وہ جہاں کا بادشاہ جس کا نام مصطفی ہے۔جو عشاق حق کا سردار اور شمس الضحی ہے آنکہ ہر نُورے طفیل نُورِ اُوست آنکه منظور خُدا منظور اوست وہ وہ ہے کہ ہرٹو راسی کے طفیل سے ہے۔اور وہ وہ ہے کہ جس کا منظور کردہ خدا کا منظور کردہ ہے اور پھر عاشقانِ الہی کی صفات بیان ہونے لگتی ہیں۔فرماتے ہیں: عاشقاں در عظمت مولی فنا غرقه دریائے توحید از وفا عاشق مولیٰ کی عظمت میں فنا ہیں۔اور وفاداری کی وجہ سے دریائے توحید میں غرق ہیں کین و مہر شاں ہمہ بہر خداست قہر شاں گر ہست آں قہر خداست ان کی دشمنی اور دوستی سب خدا کے لیے ہے۔اگر ان کو غصہ بھی آتا ہے تو وہ خدا ہی کا غصہ ہے آنکه در عشق احد محو و فناست هرچه زو آید زذاتِ کبریا ست جو خدا کے عشق میں فانی اور محو ہے۔جو کچھ بھی اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ ذات کبریا ہی کی طرف سے ہے اور آخر پر دین اسلام کی عظمت کو بیان کرتے ہیں۔دین حق شہر خدائے امجد است داخل أو در امان ایزداست دین حق تو خدائے بزرگ و برتر کا شہر ہے۔جو اس میں داخل ہو گیا وہ خدا کی امان میں آگیا در دمے نیک و خوش اسلوبے کند ہمچو خود زیبا و محبوبے کند وہ تو ایک دم میں نیک اور خوشخحصال کر دیتا ہے۔اور اپنی طرح کا حسین اور محبوب بنا دیتا ہے ایک نمونہ عربی زبان میں بھی دیکھ لیں۔ابتد احمد باری تعالیٰ سے فرماتے ہیں۔يَا مَنْ أَحَاطَ الْخَلْقَ بِالْآلَاءِ نُقْنِي عَلَيْكَ وَ لَيْسَ حَوْلُ ثَنَاءِ اے وہ ذات جس نے (اپنی) نعمتوں سے مخلوق کا احاطہ کیا ہوا ہے ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تعریف کی طاقت نہیں ہے۔